تفہیم الاحکام

100

 

مفتی مصباح اللہ صابر

سوال: کیا شب برأت کی کوئی خاص دعا منقول ہے؟
جواب: شب برأت کے حوالے سے کوئی خاص دعا منقول نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عبادت کسی خاص طریقہ پر۔ شب برأت کے بارے میں مفتی تقی صاحب لکھتے ہیں کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شبِ برأت میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے، مثلاً پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اس کا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، ذکرکریں، تسبیح پڑھیں، دعائیں کریں۔ یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
سوال: 15 شعبان کے روزے کی حقیقت کیا ہے؟
جواب: شعبان کے مہینے میں نفلی روزے رکھنا مسنون عمل ہے اور آپؐ سے اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھنا ثابت ہے لیکن 15 شعبان کو مخصوص کر کے روزہ رکھنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ علمائے دین نے اسے بدعت قرار دیا ہے، پندرہ شعبان کے روزے کے متعلق ایک ہی حدیث منقول ہے جس کے بارے میں علمائے حدیث نے ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے، جس کی تحقیق یہ ہے۔
پندرہ شعبان کے لیے خاص روزہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور صاحب مشکوٰۃ نے ابن ماجہ شریف کی جو حدیث نقل فرمائی ہے، وہ بہت ہی ضعیف اور موضوع کے درجے کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ہے اس کا نام عبداللہ بن عبد الرحمن ابن ابی سبرۃ ہے، بعض محدثین نے کذاب تک کہاہے، اس لیے اس حدیث کو ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، لہٰذا پندرہ ہی کو خصوصیت کے ساتھ روزہ رکھنا مسنون نہیں سمجھنا چاہیے، ہاں البتہ ہر ماہ کے ایام بیض 13, 14, 15کا روزہ مسنون ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص شعبان میں بھی ایام بیض کے روزے رکھتا ہے، اور ان میں پندرہ شعبان کا روزہ بھی ہے، تو اس کو مسنون سمجھنا درست ہے۔ (فتاویٰ قاسمیہ ج11)
لہٰذا صرف شعبان کی پندرہویں کو روزہ باعث ثواب سمجھنا غلط ہے اور بدعت ہے۔
سوال: غسل فرض ہوگیا، جب آنکھ کھلی تو فجر کی نماز کا اتنا وقت نہیں بچا کہ اگر غسل کرلیں تو نماز قضا ہوتی ہے، ایسے میں کیا کریں؟
جواب: آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے غسل کیا جائے اور اس کے بعد طلوع شمس کا انتظار کرے اور طلوع شمس کے بعد فجر کی نماز ادا کرلیں۔
سوال: قومی بچت کی اسکیم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟
جواب: قومی بچت کی اسکیم میں سود کا لین دین ہوتا ہے۔ شرح سود میں اضافے کی بھی خبریں موجود ہیں اور سودی لین دین شریعت محمدیؐ میں حرام ہے اس لیے قومی بچت کی اسکیم میں رقم لگانا، اس سے کمانا، اس کی لکھت پڑھت وغیرہ سب حرام ہے۔ سود کی حرمت کا حکم قرآن مجید سورہ البقرہ میں بالکل واضح موجود ہے اور احادیث میں اس کی حرمت کے حکم کے ساتھ ساتھ اس پر جہنم کی سخت وعید بھی ہے۔
سوال: کیا 30 شعبان کا روزہ رکھنا ممنوع ہے؟
جواب: اگر 29 شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو 30 شعبان کا دن فقہا کی اصطلاح میں ’’یوم الشک‘‘ کہلاتا ہے۔ فقہائے حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ ’’یوم الشک‘‘ میں روزہ رکھنا عوام کے لیے مکروہ ہے، البتہ وہ خواص اہل علم جو محض نفل کی نیت سے روزہ رکھیں اور ان کے دل میں احتیاط رمضان کا شبہ نہ ہو، ان کے لیے یوم الشک کا روزہ رکھنے کی بھی اجازت ہے۔ یا وہ شخص جو مستقل روزے رکھتا ہو جیسے کہ پیر اور جمعرات اس دوران پیر یا جمعرات کا روزہ آجائے تو ایسا شخص رکھ سکتا ہے۔ البتہ صرف رمضان کی تیاری کی نیت سے یا رمضان ہوا تو ٹھیک ورنہ تو نفل ہوجائے گا یہ صورت ٹھیک نہیں ہے۔