افکار سید ابو الا علیٰ مودودیؒ

118

 

شب برأت
ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: ’’ح م! قسم ہے اِس کتاب مُبین کی کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر وبرکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبّہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے۔ ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے، تیرے ربّ کی رحمت کے طو ر پر۔ یقیناً وہی سب کچھ سْننے اور جاننے والا ہے۔ (سورہ الدخان آیت 1-6)
یہاں بھی قسم جس بات پر کھائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف محمدؐ نہیں ہیں بلکہ ’’ہم‘‘ ہیں، اور اس کا ثبوت کہیں اور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، خود یہ کتاب ہی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مزید بات یہ فرمائی گئی کہ وہ بڑی خیر وبرکت والی رات تھی جس میں اسے نازل کیا گیا۔ یعنی نادان لوگ، جنہیں اپنی بھلائی برائی کا شعور نہیں ہے، اس کتاب کی آمد کو اپنے لیے بلائے ناگہانی سمجھ رہے ہیں اور اس سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ لیکن درحقیقت ان کے لیے اور تمام نوع انسانی کے لیے وہ ساعت بڑی سعید تھی جب ’’ہم‘‘ نے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے یہ کتاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس رات میں قرآن نازل کرنے کا مطلب بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ نزول قرآن کا سلسلہ اس رات شروع ہوا۔ اور بعض مفسرین اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس میں پورا قرآن امّ الکتاب سے منتقل کرکے حامل وحی فرشتوں کے حوالے کر دیا گیا اور پھر وہ حالات و وقائع کے مطابق حسب ضرورت نبیؐ پر 23 سال تک نازل کیا جاتا رہا۔ صحیح صورت معاملہ کیا ہے، اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
اس رات سے مراد وہی رات ہے جسے سورہ قدر میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے۔ وہاں فرمایا گیا کہ: اِنَّا اَنزَلنٰہْ فِی لَیلَۃِ القَدر، اور یہاں فرمایا کہ: اِنَّآ اَنزَلنٰہْ فِی لَیلَۃٍ مّْبَا رَکٍَ۔ پھر یہ بات بھی قرآن مجید ہی میں بتادی گئی ہے کہ وہ ماہ رمضان کی ایک رات تھی: شَھرْ رَمَضَا نَ الذِی اْنزِلَ فِیہِ القْراٰن۔ (البقرہ، 185)
اصل میں لفظ ’’ اَمرٍ حَکِیم‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حکم سراسر حکمت پر مبنی ہوتا ہے، کسی غلطی یا خامی کا اس میں کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ایک پختہ اور محکم فیصلہ ہوتا ہے، اسے بدل دینا کسی کے بس میں نہیں۔
سورہ قدر میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے: ’’اس رات ملائکہ اور جبریل اپنے رب کے اِذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے شاہی نظم ونسق میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں وہ افراد اور قوموں اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کرکے اپنے فرشتوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ اور پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عملدر آمد کرتے رہتے ہیں۔ بعض مفسرین کو جن میں عکرمہ سب سے زیادہ نمایاں ہیں، یہ شبہ لاحق ہوا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے، کیوں کہ بعض احادیث میں اسی رات کے متعلق یہ بات منقول ہوئی ہے کہ اس میں قسمتوں کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ لیکن ابن عباس، ابن عمر، مجاہد، قتادہ، حسن بصری، سعید بن جبیر، ابن زید، ابو مالک، ضحاک اور دوسرے بہت سے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رمضان کی وہی رات ہے جسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے، اس لیے کہ قرآن مجید خود اس کی تصریح کر رہا ہے، اور جہاں قرآن کی صراحت موجود ہو وہاں اخبار آحاد کی بنا پر کوئی دوسرے رائے نہیں قائم کی جاسکتی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ’’عثمان بن محمد کی جو روایت امام زہری نے شعبان سے شعبان تک قسمتوں کے فیصلے ہونے کے متعلق نقل کی ہے وہ ایک مرسل روایت ہے، اور ایسی روایات نصوص کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتیں‘‘۔ قاضی ابوبکر ابن العربی کہتے ہیں کہ ’’نصف شعبان کی رات کے متعلق کوئی حدیث قابل اعتماد نہیں ہے، نہ اس کی فضیلت کے بارے میں اور نہ اس امر میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف التفات نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ (احکام القرآن)
(تفہیم القرآن، تفسیر سورہ الدخان)