قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ 

193

جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش جان لیں وہ مظلوم ۔جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام اْن کا منتظر ہے)۔ اے محمدؐ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔ پچھلے رسولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا، اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اْس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو اْن کے لیے اتاری گئی ہے، اور تاکہ لوگ (خود بھی) غور و فکر کریں ۔ (سورۃ النحل:41تا44)
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم: جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے وہ اللہ کی ذمے داری میں ہے۔ جو بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اللہ کی ذمے داری میں ہے۔ جو صبح شام مسجد جاتا ہے وہ اللہ کی ذمے داری میں ہے، جو کسی حاکم کے پاس کسی مسلمان کی مدد کے لیے جاتا ہے وہ اللہ کی ذمے داری میں ہے اور جو اپنے گھر میں ایسے رہتا ہے کہ کسی کی غیبت نہیں کرتا وہ اللہ کی ذمے داری ہے۔ (ابن حبان)
کچھ دیہاتی لوگوں نے سوال کیا یارسول اللہ! کیا ہم بیماریوں کا علاج کیا کریں؟ فرمایا: ہاں اللہ کے بندو! علاج کیا کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا فرمائی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ وہ ایک بیماری کون سی ہے؟ ارشاد فرمایا: بڑھاپا! (ابوداؤد)