حکومت آئین سے راہ فرار کے بجائے معاملات بہتر بنائے‘ لیاقت بلوچ

96
کوئٹہ:جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ پریس کلب میں سیمینار سے خطاب کررہے ہیں
کوئٹہ:جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ پریس کلب میں سیمینار سے خطاب کررہے ہیں

کو ئٹہ( نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو سانحہ ہزار گنجی کے درد کو محسوس کرکے پہلی فرصت میں کوئٹہ آنا چاہیے تھا۔آئین سے راہ فرار اختیارکی بجائے معاملات کو بہتر بنایا جائے۔ وفاق اختیارات صوبوں کو منتقلکرکے انہیں قومی ترقی کا حصہ بنائے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام ’’بلدیاتی نظام کیوں اورکیسے ‘‘کے عنوان سے منعقدہ مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں بلوچستان نیشنل پارٹی ،پشتونخوامیپ،اے این پی،انجمن تاجران،کاکڑجمہوری پارٹی،تحریک نظریہ پاکستان، جے آئی یوتھ اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کوئٹہ کی جانب سے بلدیاتی اداروں سے متعلق بکھری ہوئی آرا کو سمیٹنے کیلیے سیمینار کا انعقاد خوش آئند ہے۔ بلدیاتی نظام ریاست اورجمہوریت کے استحکام کیلئے نرسری کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے قیادت کاانتخاب کرکے ریاست کے بنیادکواستحکام بخشنا ہے، جلدبازی سے لیڈرشپ توپیدا کی جاسکتی ہے ملک وقوم کے مسائل کوسمجھ کر ان کاحل تلاش کرناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ،چاروں صوبائی حکومتوں وسیاسی قیادت کوبلدیاتی اداروں وصوبے کادائرہ اختیار کاتعین کرناچاہیے ۔ آئین میں یہ چیزیں طے شدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں یکسوئی نہ ہونے اور ذاتی پسندوناپسندپارٹی قیادت سے وفاداری کی بنیادپر لوگوں کے آگئے لانے کی وجہ سے بلدیاتی نظام مکمل طورپرناکارہ قومی سطح پر فکری بحران پیدا ہوا ہے، بلدیاتی اداروں کوبااختیاربنائے بغیر نتائج کاحاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کو سیاسی جماعتوں اورصوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں دینے کے بجائے الیکشن کمیشن کے اختیار میں دیا جائے اگر الیکشن کمیشن بہترحلقہ بندیاں نہ کرے تو اس کو عدالتی کٹہرے میں کھڑاکیاجائے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں اپوزیشن اورحکومتی کشمکش کی وجہ سے بلدیاتی کمیشن تک مکمل نہیں ہوپارہا جس کی وجہ سے ہرمعاملہ تاخیر کاشکارہوتاچلا جارہا ہے۔