سندھ ہائیکورٹ: نجی اسکولوں کو ایک ماہ کی فیس واپس کرنے کا حکم

224

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے دو ماہ کی فیس ایک ساتھ لینے والے نجی سکولوں کو ایک ماہ کی فیس واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم کی خلاف ورزی پر اسکول کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں اسکول فیسوں میں غیر قانونی اضافے اور زائد فیس وصول کرنے والے اسکولوں کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ اسکول انتظامیہ نے مختلف کیمپسز کے جارہ کردہ چالان کی کاپی پیش کی۔

نجی سکول کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ والدین نے اگست 2018 کے بعد سے فیس ادا نہیں کی۔ ستمبر 2018 کے فل بینچ کے فیصلہ کے بعد نیا چالان جاری کیا گیا۔ دسمبر میں سپریم کورٹ کے حکم پر کرنٹ فیس میں 20 فیصد کٹوتی کی گئی۔ درخواست گزاروں کے علاوہ دیگر والدین فیس دینے کو تیار ہیں۔ والدین سوشل میڈیا پر پروپیگینڈا کر کے لوگوں کو ورغلا رہے ہیں۔

والدین کا موقف تھا کہ دو بڑے نجی سکول مئی اور جون کی فیس ایک ساتھ مانگ رہے ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کوئی اسکول دو ماہ کی فیس ایک ساتھ نہیں لے سکتا، خلاف ورزی پر اسکول کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

عدالت نے دو ماہ کی فیس وصول کرنے والے اسکولوں کو ایک ماہ کی فیس واپس کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے والدین کو بھی عدالتی حکم کے مطابق فیس ادا کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے پرائیویٹ اسکولوں کو طلبہ کیخلاف کسی قسم کی کارروائی سے روک دیا۔