اسرائیلی حکام نے مسجد کو نائٹ کلب میں تبدیل کردیا

198

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں قائم تاریخی مسجد کو نائٹ کلب میں تبدیل کردیا۔

عربی اخبار گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی مسلمان عہدیدار نے بتایا کہ شمالی فلسطین کے علاقے صفد کی مقامی انتظامیہ نے 13 ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی الاحمر (سرخ) مسجد کو شراب خانے اور شادی ہال میں بدل دیا۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی وقف کے سیکریٹری خیر طباری نے بتایا کہ ’جب میں نے مسجد کے اندر اس تخریب کاری کے پہلوؤں کو دیکھا تو میں صدمے کا شکار ہوگیا‘۔

رپورٹ کے مطابق خیر طباری نے کئی سال پہلے ناصرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں اس مسجد کو اسلامی وقف کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔لیکن عدالت کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر فیصلہ نہیں دیا گیا۔

خیر طباری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست کے ساتھ اس مسجد کی ملکیت کے اصل دستاویزات اور یہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے معاوضوں کی فہرست بھی جمع کروائی تھی۔اور اب مذکورہ مقام کا نام تبدیل کر کے ’خان الاحمر‘رکھ دیا گیا تا کہ بطور مسجد اس کی حرمت کی طرف سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

اس سے قبل 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد متعدد مرتبہ اس مسجد کی بے حرمتی کی جا چکی ہے اور ابتدا میں اسے یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کیا گیا تھا۔