بلدیہ فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر کے نام پر کروڑوں روپے کا ہیر پھیر

101
مصطفی کمال کے دور میں لگایا گیا ہیوی جنریٹر جو چوری ہوگیا مگر ملبہ آج بھی موجود ہے ،پچ رولر بھی واضح نظرآرہاہے
مصطفی کمال کے دور میں لگایا گیا ہیوی جنریٹر جو چوری ہوگیا مگر ملبہ آج بھی موجود ہے ،پچ رولر بھی واضح نظرآرہاہے

کراچی (محمد عارف میمن )بلدیہ ٹاؤن فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر کی مد میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سندھ حکومت ،سٹی حکومت اور ٹاؤن کوئی بھی اسٹیڈیم کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں،2006ء سے قبل یہ ٹاؤن کی ملکیت تصور کیا جاتا تھاتا ہم مصطفی کمال نے اسے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ماتحت کرکے بلدیہ فٹبال اسٹیڈیم کے لیے 321.7ملین روپے کی خطیر رقم مختص کرتے ہوئے بلدیہ فٹبال اسٹیڈیم کو عالمی معیار کااسٹیڈیم بنانے کا اعلان کیا اورساتھ ہی اسٹیڈیم کے تعمیراتی کام کا بھی افتتاح کیا۔ بعدازاں سندھ گورنمنٹ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرکے فٹبال اسٹیڈیم کو اپنے ماتحت کردیا ۔ 2009ء میں صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ نے اسٹیڈیم کا ایک مرتبہ پھر سے سنگ بنیاد رکھا اورسٹی گورنمنٹ کی جانب سے اسٹیڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی النورکو دیاگیا ۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق 2011ء میں کمپنی نے 92.6ملین کی لاگت سے اسٹیڈیم میں پویلین ،سیٹنگ سسٹم اورفٹبال پچ بناکر اسے سٹی حکومت کے حوالے کردیا۔ جس کا افتتاح ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے کیا اور اس دو سال کے عرصے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی بھی انہوں نے نگرانی کی۔ تاہم گراؤنڈ میں مصطفی کمال کے دورکے بعد کوئی کام نہیں کیاگیا جب کہ مختص فنڈز کے حوالے سے بھی کسی ادارے کا پاس کوئی جواب نہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں رانا گراؤنڈ اورموجودہ بلدیہ فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر وترقی میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ 2006ء میں فٹبال اسٹیڈیم کا افتتاح ہونے کے بعد دوسرا افتتاح 2009ء میں کیاگیا جب کہ تیسرا اورآخری افتتاح 2011ء میں کیاگیا۔ بلدیہ ٹاؤن فٹبال اسٹیڈیم کا پہلا سنگ بنیاد 11جولائی 2006ء میں اس وقت کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے رکھا ۔ جس کا بجٹ 121.7ملین روپے رکھا گیا۔ منصوبہ دو سال یعنی 2008جولائی میں مکمل ہونا تھا۔ بلدیہ اسٹیڈیم کا افتتاح کرتے ہوئے سٹی ناظم نے اسے عالمی معیار کا بنانے کا اعلان کیاجس کے لیے ایک خطیر رقم بھی مختص کی گئی ۔ اسٹیڈیم میں میں ہاکی ،فٹبال ،کرکٹ گراؤنڈ سمیت سوئمنگ پول،ڈائیونگ پول،جاگنگ ٹریک،20ہزار اسکوائر فٹ پر انڈرواٹر ٹینک،اسکور بورڈ ،سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ،انٹرکام سسٹم ،الیکٹرک سب اسٹیشن ،اورفائر فائٹنگ سسٹم لگایاجانا تھا۔ گراؤنڈ کے اطراف پودے اور درخت لگانے کا بھی منصوبہ اس میں شامل تھا۔ بلدیہ فٹبال اسٹیڈیم کا منصوبہ عالمی میعار کو مد نظر رکھ کر تیار کیاگیا تھا جس کا بجٹ بھی اسی مناسبت سے رکھا گیاتھا۔ تاہم مصطفی کمال کے دور میں ہونے والے ترقیاتی کام اسٹیڈیم میں لائٹس ،جنریٹر،پویلین کی تعمیر ،اسٹیڈیم باؤنڈری ،انڈور گیم زون ،ٹینس کورٹ،انڈر واٹر ٹینک تک ہی محدود رہے کہ اس کے بعد کام بند کردیاگیا۔ ذرائع کے مطابق فٹبال اسٹیڈیم کو سندھ حکومت نے اپنے ماتحت کرلیاہے اوراس بات کی تصدیق بلدیہ ٹاؤن کے ایک سینئر افسر نے 2017ء میں کی تھی،جس کے مطابق سندھ گورنمنٹ کے ماتحت ہونے کے بعد مذکورہ اسٹیڈیم میں ایک پتھر بھی ادھر سے ادھر نہیں کیاگیا اور جس حال میں اسٹیڈیم مصطفی کمال نے چھوڑا تھا آج بھی ویسا ہی ہے۔ 2009ء میں صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ نے ایک مرتبہ پھر سے فٹبال اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھا جس کی تعمیرات کی ذمے داری ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی النور کو اس کاٹھیکہ دیاگیا۔ النور کمپنی نے مذکورہ ٹھیکہ 92.7ملین میں مکمل کرکے 2011ء میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے حوالے کیا اوراس کاافتتاح ایک مرتبہ پھر صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ نے کیا،جب کہ ان دوسالوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی نگرانی بھی صوبائی وزیر نے خود کی تھی۔ تاہم 8سال گزرنے کے باوجود اسٹیڈیم کی حالت ویسے ہی جہاں سے کام شروع کیاتھا۔ النور کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جو تفصیلات دی گئی ہیں اس کے مطابق اسٹیڈیم میں پویلین ،سیٹنگ سسٹم اور فٹبال پچ کی تعمیر انہوں نے مکمل کی جس کی لاگت ویب سائٹ پر بھی ظاہر کی گئی ہے۔ اس حوالے سے کے ایم سی کے ذرائع کے مطابق فٹبال اسٹیڈیم کی دیکھ بھال اورتعمیراتی کام صوبائی حکومت کا ہے جس میں کے ایم سی کوئی مداخلت نہیں کرتی۔ جب تک یہ کے ایم سی کے پاس تھا اس پر کام ہوتا رہا جب اس سے اسٹیڈیم واپس لے لیاگیا تب سے کام بند ہے۔ جب کہ سندھ حکومت کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے اس حوالے رابطہ کرنے کی کوشش رائیگاں گئیں اور کسی متعلقہ افسر سے رابطہ نہ ہوسکا۔گراؤنڈ کی موجودہ حالت سے قطعی نہیں لگتا کہ کبھی یہاں کوئی کام ہوا ہو۔ نہ گراس کا کوئی نام ونشان ہے اور نہ کوئی سٹنگ سسٹم نظرآتا ہے۔ اسٹیڈیم میں جگہ جگہ جھاڑیاں اوردرخت موجود ہیں۔سابق نائب ناظم زاہد محمود سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں پہلے اسے کے ایم سی کی ملکیت قرار دیا تاہم بعدازاں یہ کہہ کر جواب دیا کہ 2سے 3روز میں اس حوالے سے مکمل معلومات لے کر فراہم کردی جائیں گی ،جب کہ سندھ حکومت کی ملکیت کے معاملے پر بھی انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اورکہا کہ اس حوالے سے میرے علم میں کوئی بات نہیں۔ سندھ گورنمنٹ کی آفیشنل ویب سائٹ پر محکمہ اسپورٹس کا پیج بھی غائب ہے جہاں سے اس حوالے سے کوئی معلومات لی جاتی ۔اسی طرح سٹی گورنمنٹ کی ویب سائٹ پر بھی بلدیہ فٹبال اسٹیڈیم کا کوئی ذکرموجود نہیں۔ کے ایم سی 2009کے بجٹ میں اسٹیڈیم کی تعمیر وترقی کا کوئی بجٹ سامنے نہ آسکا، ساتھ ہی 2018-2019کے بجٹ میں بھی اس اسٹیڈیم کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ جب کہ اس اسٹیڈیم کا ٹینڈرز بھی کہیں دستیاب نہیں۔