قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ

183

اے محمدؐ، تم چاہے اِن کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ’’اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اٹھائے گا‘‘ اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ اِن کے سامنے اْس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور منکرین حق کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ (رہا اس کا امکان تو) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں ’’ہو جا‘‘ اور بس وہ ہو جاتی ہے ۔ (سورۃ النحل:37تا40)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کے دل میں خوشی داخل کرنا سب سے افضل عمل ہے خواہ اس کی ستر پوشی کرنے کے لیے کپڑے پہنائے یا اس کی بھوک رفع کرنے کے لیے اسے شکم سیر کر دے یا اس کی کوئی اور حاجت پوری کر دے۔
(الترغیب والترہیب)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں، پھر وہ ان کی اچھی تربیت کرے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تواس کے لیے جنت واجب ہے۔
(ترمذی)