!اور گرمی آگئی

159

قرآن سے بڑھ کر اور کس کی بات سچ ہوسکتی ہے کہ ’’آدمی بہت تھڑدلا اور جلد باز واقع ہوا ہے‘‘۔ اب کی دفعہ سردیوں نے ذرا طول کھینچا تو وہ گھبرا گیا اور موسم بدلنے کی آرزو کرنے لگا، سردیاں بھی اتنی ڈھیٹ تھیں کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں، ورنہ ہمیں یاد ہے کہ فروری کے وسط میں رُت بدل جاتی تھی اور یہ بہار کی رُت ہوتی تھی جس میں نہ زیادہ سردی نہ زیادہ گرمی، بس گلابی موسم ہوتا تھا اور اسے موسم بہار سے تعبیر کیا جاتا تھا، اس موسم میں بدن پر لدے ہوئے گرم کپڑے اُتر جاتے تھے، جی چاہتا تھا کہ کسی پارک میں چہل قدمی کی جائے اور ٹھنڈی تازہ ہوا کا لطف لیا جائے، بقول شاعر:
تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی
لیکن اب کی دفعہ عجب ماجرا ہوا، فروری گزر گیا مارچ آگیا لیکن سردی اور بارش نے موسم بہار کو دبوچے رکھا، صرف بارش ہی نہیں پہاڑوں پر برفباری بھی مسلسل ہوتی رہی، جو لوگ پہاڑوں کے دامن میں یا نیم پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ برفباری کے بعد برفانی ہوائیں کیا قیامت ڈھاتی ہیں۔ ہم نیم پہاڑی علاقے کہوٹا میں رہائش پزیر ہیں جہاں پورا مارچ برفانی ہواؤں کا راج رہا اور ہر چوتھے پانچویں دن بادل گرجتے برستے رہے۔ پورے پنجاب میں یہی کیفیت تھی۔ بلوچستان کا حال ہم سے بھی بُرا تھا وہاں ایران سے داخل ہونے والی طوفانی بارشوں نے قیامت ڈھا رکھی تھی، کچی بستیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئی تھیں کروڑوں روپے مالیت کی ٹماٹر کی فصل تباہ ہوگئی تھی جب کہ دوسری نقد آور فصلوں کا حال بُرا تھا۔ بلوچستان کا کسان جو پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہا ہے اِن بارشوں نے اسے مزید تباہ حال کردیا تھا، تاہم ان بارشوں کا افادی پہلو یہ تھا کہ بنجر زمینیں اور بے آب و گیاہ چراگاہیں سرسبز و شاداب ہوگئی تھیں اور بھیڑ بکریوں اور دیگر پالتو مویشیوں کے لیے وافر مقدار میں خوراک میسر آگئی تھی جس کا فائدہ بہرکیف کسانوں ہی کو پہنچے گا۔ پنجاب میں گندم کی فصل تیار کھڑی تھی اور بارشیں رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں، کسان آسمان کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فصل کی کٹائی کے دوران آسمان سے سونے اور چاندی کی بھی بارش ہو تو ہمیں وارا نہیں کھاتی کہ ہمارے لیے تو گندم کا ایک ایک دانہ سونے کی ڈلی کی حیثیت رکھتا ہے۔
بہرکیف یہ دن گزر گئے، مارچ بارش، برفباری اور برفانی ہواؤں کے ساتھ رُخصت ہوگیا، اپریل آیا تو گرمی بھی اپنی تمام حشر سامانی کے ساتھ آموجود ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ گرمی غریبوں کا اور سردی امیروں کا موسم ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جب گرمی اپنی آئی پر آتی ہے تو وہ غریبوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتتی۔ پچھلے سال کراچی میں قیامت کی گرمی نے کتنے ہی غریبوں کی جان لے
لی تھی، اب کی دفعہ بھی شنید ہے کہ گرمی قیامت ڈھائے گی اور اگلا پچھلا حساب بے باق کردے گی۔ ہمارے دوست کہتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں گرمی نہیں پڑے گی تو کیا برفباری ہوگی۔ اصل میں گرمی کو قیامت بنانے کا کام بجلی کی لوڈشیڈنگ کرتی ہے جو اگرچہ سردیوں میں بھی ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں کھلتی جتنی گرمیوں میں۔ اب کی دفعہ تو وزیر بجلی نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے کہ عوام ہوشیار رہیں لوڈشیڈنگ معمول سے زیادہ ہوگی۔ یعنی لوڈشیڈنگ جو اِن دنوں چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے ہورہی ہے آئندہ بارہ چودہ گھنٹے ہوگی۔ ہمیں یاد ہے کہ نواز شریف حکومت نے بجلی کا مسئلہ حل کرنے کے بڑے دعوے کیے تھے، اخبارات میں پورے پورے صفحے کے اشتہارات شائع کرائے جاتے تھے جن میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ بجلی کے نئے منصوبوں کے ذریعے نیشنل گِرڈ میں اتنے ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہوگئی ہے اور ہم بجلی میں نہ صرف خود کفیل بلکہ اسے برآمد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جب نواز حکومت رخصت ہوئی تو بجلی بھی اپنے ساتھ لے گئی اور ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے جب کہ نیب بجلی کے منصوبوں میں کرپشن کی چھان بین کررہا ہے۔
گرمی میں ایک اور مسئلہ جو قیامت ڈھاتا ہے وہ پانی کا ہے، پانی آدمی کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے، پانی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن ہماری تمام حکومتوں نے اس اہم ترین مسئلے سے بے اعتنائی برتی ہے، مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آنے والے تمام دریاؤں پر بھارت نے قبضہ کرلیا ہے اور ہماری حکومتیں اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی رہی ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا ہے کہ ہمیں زراعت کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے۔ ڈیم بنانے کی ہم نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی، جو دو تین ڈیم جنرل ایوب خان کے زمانے میں بن گئے تھے ہم نے ان ہی پر اکتفا کرلیا اور اس پر اَڑ گئے کہ آئندہ کوئی ڈیم نہیں بننے دیں گے۔ پورے ملک میں شہریوں کو ان کی ضرورت کا پانی فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری تھی لیکن کسی حکومت نے بھی یہ ذمے داری پوری نہ کی، اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ملک کی کم و بیش تین چوتھائی آبادی ایسی ہے جو پینے اور اپنی دیگر ضروریات کے لیے پانی اپنی تگ و دو سے حاصل کرتی ہے اور حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ حکومتوں کی بے حسی کا تو یہ عالم ہے کہ ملک میں کتنے ہی علاقے ایسے ہیں جہاں انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پینے پر مجبور ہیں، لیکن اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر اربوں روپے برباد کیے جارہے ہیں۔ اب گرمی آئی ہے تو جن بڑے شہروں میں واٹر سپلائی اسکیمیں کام کررہی ہیں وہاں بھی پانی کی قلت پیدا ہوجائے گی اور ٹینکر مافیا راج کرنے لگے گا، اس طرح لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ بہرکیف گرمی آگئی ہے اب، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ ہم یہیں تک لکھ پائے تھے کہ پسینے میں شرابور چھوٹی پوتی کمرے میں داخل ہوئی اور بڑی معصومیت سے بولی ’’دادا گرمیاں کب جائیں گی؟۔