گندے کپڑے

221

احمد اعوان
گزشتہ روز معروف کالم نگار حامد میر نے ایک کالم میں ایک مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی، پہلے ان کے کالم کا خلاصہ پیش کرتا ہوں تا کہ مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہوسکے۔ موصوف نے فرمایا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ان سے رابطہ کیا، انہیں کہا کہ وہ ساتھی طلبہ کے ساتھ آپ سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔ حامد میر نے بھرپور کوشش کی کہ وہ طلباء کے وفد سے ملاقات نہ کریں مگر طلبہ کا مطالبہ زور پکڑتا چلا گیا حتیٰ کہ میر صاحب لاہور ایک پروگرام کے لیے گئے جہاں بلوچ طلبہ نے ان سے شکوہ کیا کہ وہ ان کے جامعہ قائد اعظم کے ساتھی طلبہ کو ملاقات کے لیے وقت نہیں دے رہے۔ جس کے بعد حامد میر نے متعلقہ طلبہ کو ملاقات پر مدعو کرلیا۔ ان طلبہ نے حامد میر سے مختلف سوالات کیے مگر جو سوال حامد میر کو انتہائی قیمتی اور اہم مسئلہ معلوم ہوا وہ یہ تھا کہ اس طلباء وفد کی مرکزی رہنما لڑکی نے حامد میر سے سوال اور شکوہ کیا کہ آج کل شیخ رشید جو کچھ بلاول زرداری کے لیے کہہ رہے ہیں (اس لڑکی کا اشارہ زو معنی جملوں کی طرف تھا) اس پر علما کرام کیوں خاموش ہیں۔ لڑکی نے قوم لوط کا حوالہ دے کر حامد میر سے احتجاج کیا کہ کیا مرد کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟ جناب حامد میر کو اس سوال نے بے چین کردیا اور انہیں یہ سوال اتنا اہم معلوم ہوا کہ حضرت نے پورا ایک مضمون اس پر لکھ دیا۔ ’’کھودا پہاڑ نکالا چوہا‘‘ کی اگر فی زمانہ کوئی مثال درکار ہو تو حامد میر کا یہ کالم پڑھا جاسکتا ہے۔
حامد میر ایک لبرل فرد ہیں اور وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ موصوف کو بلاول اور شیخ رشید کے درمیان جاری زو معنی جملوں کے تبادلے کا بھرپور دُکھ، رنج اور کرب ہے۔ حضرت نے ماڈرن ازم کے عین مطابق ایک غیر اہم مسئلے کو اہم بنا کر پیش کیا۔ سوال یہ کہ قائد اعظم یونیورسٹی کی طالبہ کو بلاول اور شیخ رشید کے مسئلے میں علما کرام کی رائے اس متعلق کا نقطہ نظر درکار ہے مگر کیا اُسے جامعہ قائد اعظم اور دیگر جامعات میں ہونے والے سنگین نوعیت کے غیر شرعی مسائل پر بھی علما کرام کی رائے چاہیے؟ کیا متعلقہ لڑکی کو ثقافتی دن کے عنوان سے جامعہ قائد اعظم میں ہونے والی خرافات اور غیر شرعی تقریبات پر بھی علما کرام کی رائے درکار ہے؟ کیا لڑکی کو عورت کے پردے اور عورت کے کردار کے متعلق شرعی احکامات جاننے کے لیے بھی علما کرام کی رائے معلوم کرنے کی ضرورت ہے؟ یا اوپر بیان کیے گئے تمام معاملات میں متعلقہ طلبہ علما کرام کے کردار سے انکاری ہیں اور انہیں صرف بلاول اور شیخ رشید کے درمیان جاری زو معنی جملوں کے حوالے سے علما کرام کے کردار کی ضرورت ہے؟ بقول حامد میر لڑکی نے قوم لوطؑ کا حوالہ دے کر مسئلے کی سنگینی اُجاگر کی تو کیا لڑکی رسول اکرمؐ کے عورتوں سے متعلق پردے کے احکامات اور معاشرے میں مرد وزن کے میل ملاپ کے حوالے سے احکامات جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے؟ کیا ملک بھر میں جو کچھ تعلیم کے نام پر ہورہا ہے وہ علما کرام سے پوچھ کر ہو رہا ہے؟ کیا مخلوط تعلیم علما کرام سے پوچھ کر دی جارہی ہے؟ کیا جامعات میں جو غیر اخلاقی اور غیر شرعی سرگرمیاں ریاستی سرپرستی میں جاری ہیں ان میں علما کرام سے کبھی رائے طلب کی گئی؟ کیا کبھی حامد میر نے کوئی ایک صرف ایک ٹی وی پروگرام پردے یا شریعت کے نفاذ کے لیے کیا، کبھی کوئی مضمون ان موضوعات پر لکھا؟ کیوں نہیں لکھا؟ کیا یہ موضوعات ان کی نظر میں اہم نہیں ہیں؟ یا وہ شریعت کے نفاذ کو غیر اہم سمجھتے ہیں؟
جامعہ قائد اعظم کے طلبہ کے وفد نے حامد میر سے سوال کیا کہ آپ عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں بھی جاتے ہیں اور مولانا سمیع الحق کے جنازے میں بھی۔ اگر حامد میر دونوں کے جنازے میں گئے تو اس سے کیا بات ثابت ہوئی؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ حامد میر ایک لبرل شخص ہے اس کے ہاں عاصمہ جہانگیر کی بھی وہی عزت ہے جو مولانا سمیع الحق شہید کی ہے۔ معروف فلسفی ذی زیک کے بقول جدید ریاست ان کے افراد اس کے وکیل اس قدر چالاک اور سفاک ہوتے ہیں کہ وہ کبھی پہلے سوال کا جواب نہیں دیتے، وہ ہمیشہ دوسرے سوال کو پہلا سوال بنا کر اس سے بات کا آغاز کریں گے اور دوسرے سوال کو اہم مسئلہ بنا کر پیش کریں گے۔ اصل سوال یہ تھا کہ بلاول زرداری اور شیخ رشید دونوں غیر مذہبی شخصیات ہیں دونوں انسانی حقوق کے عالمی منشور کے پیروکار ہیں اور انسانی حقوق کا عالمی منشور دونوں میں جاری جملے بازی کو دونوں کا نجی مسئلہ بتاتا ہے۔ اور اگر بلاول کو کوئی سہولت درکار ہے اس مسئلے سے متعلق تو وہ جدید عدالتوں میں دعویٰ دائر کرے، عدالت عین غیر شرعی طریقے سے اس مسئلے کا حل نکال دے گی۔ اس مسئلے میں علما کرام کو گھسیٹنا اور ان سے صرف اس مسئلے بابت دریافت کرنا مجرمانہ ذہنیت اور شریعت کو بطور آلہ کے استعمال کرنے کو ثابت کرتا ہے۔ اس لیے ہماری حامد میر سے درخواست ہے کہ وہ اپنے لبرل ازم کے گندے کپڑے علما کرام سے دھلوانے کی کوشش کرنے سے باز رہیں اور وہ جس مسئلے پر فکر مند ہیں اس پر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔