اسلام کیخلاف سازشیں کامیاب نہیں ہوسکتیں،امام کعبہ 

120
اسلام آباد: پیغام اسلام کانفرنس کے موقع پر صدر عارف علوی، امام کعبہ شیخ عواد الجہنی ودیگر قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوئے ہیں
اسلام آباد: پیغام اسلام کانفرنس کے موقع پر صدر عارف علوی، امام کعبہ شیخ عواد الجہنی ودیگر قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوئے ہیں

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ عواد الجہنی نے کہا ہے جو معاشرے دین سے دور ہیں کا حال جانوروں سے بدتر ہوا ہے ، اسلام مکمل دین ہے ، اس دین کیخلاف سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی چوتھی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، سعودی سفیر نواف المالکی، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، مولانا طاہر اشرفی اور دیگر علمائے کرام شریک تھے۔پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ عوادالجہنی نے کہا کہ میں سعودی عرب سے آپ کے پاس نیک خواہشات لے کر پیش ہوا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی امت کے حوالے سے سب سے زیادہ خدمات ہیں۔ امام کعبہ نے اس موقع پر قرآن پاک کی آیات کی تلاوت بھی کی اور کہا کہ اسلام مکمل دین ہے اور خیر کا دین ہے، یہ اخلاق کا دین ہے، اس نبی کا دین ہے جو اخلاق کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے، اس دین کے خلاف سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ جو معاشرے دین سے دور ہیں ان کا حال جانوروں سے بدتر ہوا ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کا پیغام ہمدردی اور مساوات ہے اور ایمان داری کی شروعات اعلیٰ قیادت سے ہوتی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت العالمین بنا کر بھیجے گئے، ان کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور 70 ہزار سے زاید جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے دنیا کو پاکستان کی افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور مسلح افواج نے قربانیاں دے کر ملکی بقا کے لیے کام کیا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور افغان مہاجرین کی تیسری اور چوتھی نسل بھی پاکستان میں موجود ہے۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اسلام کا پیغام ہمدردی اور مساوات کا ہے اور پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر دنیا کو بتایا کہ انسانیت کیا ہوتی ہے۔بعد ازاں سعودی سفیر نواف المالکی نے پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کا قیام اسلامی اصولوں پر ہوا، عرض حرمین کی حکومت مسلمانوں کی خدمت کے لیے پیش پیش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کے لیے سعودی حکومت نے بیشتر کانفرنسز کا بھی اہتمام کیا۔سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، ہم مسلم امہ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔بعد ازاں حافظ طاہر اشرفی نے پیغام اسلام کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔پیغام اسلام کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ اسلام کا دہشت گردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں، اسلام محبت اعتدال اور رواداری کا مذہب ہے۔اعلامیے میں کہاگیا کہ اسلامک فوبیا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت قابل مذمت ہے، کسی بھی مذہب کی توہین کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ قانون سازی کرے۔پیغام اسلام کانفرنس نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے لیے امن پیغام ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے۔اعلامیے کے مطابق مسائل کا حل مذاکرات سے ممکن ہے جس کے لیے دنیا میں مکالمے کو فروغ دینا چاہے، اسلام جبر کی بنیاد پر کسی کو مسلمان نہیں بناتا ہے اس لیے ہر طرح کے پروپیگنڈے کو مسترد کیا جاتا ہے۔کانفرنس کے اعلامیے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو پاکستان سے تعلقات کے لیے کردار پر سال کی شخصیت قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف خدمات کو احسن انداز میں دیکھتی ہے اور افواج پاکستان کے لیے پیغام اسلام کانفرنس شیلڈ کا اعلان کرتی ہے۔پیغام اسلام کانفرنس کے اعلامیے میں افغانستان میں امن کے لیے آگے بڑھنے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئیے ہم قاتلوں کے معاون بننے کی بجائے امن کے معاون بنیں اور ہم انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ پرستی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں۔اعلامیے میں نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر عمل درآمد کرانے، کشمیر اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔پیغام اسلام کانفرنس کے اعلامیے میں یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں، برطانیہ اور دیگر ممالک میں مساجد پر حملوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشش کی جائے گی۔