پولیس افسران نے پالیسیاں بنانا  شروع کردی ہیں، مرتضیٰ وہاب

61

کراچی (اسٹاف رپورٹر/ مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں اصطلاحات کے معاملے صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ کے ختلافات کھل کر سامنے آگئے،صوبائی حکومت نے آئی جی سندھ کی جانب سے عدالت میں سفارشات جمع کرانے کے بیان پر اعتراض کیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات، قانون و اینٹی کرپشن مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پولیس کا کام پولیسنگ کرنا ہے، پالیسی بنانا نہیں، بعض افسران نے پالیسی بنانا شروع کردی ہے، سندھ حکومت نے ریکارڈ قانون سازی کی، ثالثی کا قانون منظور کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے ستمبر 2018ء میں ایک نجی درخواست پر سندھ پولیس میں اصلاح کے لیے نئے قانون اور موجود قوانین میں ضروری ترامیم کا حکم جاری کیا تھا جس پر عملدرآمد میں تاخیر پر سندھ ہائی کورٹ نے 24 جنوری 2019ء کو صوبائی حکومت کو 6 ہفتے کے اندر نئی قانوں سازی کا مسودہ پیش کرنے کی ہدایت دی تاہم سندھ حکومت کی جانب سے حکم کی عدم تکمیل پر عدالت نے 14 مارچ کو ایک مرتبہ پھر حکومت کو ہدایت جاری کی کہ وہ 4 ہفتوں کے اندر اندر عدالت میں پولیس اصطلاحات کا مسودہ جمع کرائے، عدالت کے اس حکم کے بعد 2 روز قبل آئی جی سندھ کی جانب نے ایک گفتگو کے دروان اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ سندھ پولیس کی جانب سے سندھ پولیس میں پرانے قوانین میں ترامیم اور نئی قانون سازی کا مسودہ جلد عدالت میں پیش کردیا جائے۔ آئی جی سندھ سید کلیم امام نے ستمبر 18 میں عدالتی احکامات کی روشنی میں سندھ پولیس کے اعلی افسران پر مشتمل ایک ٹیم قائم کی تھی جس نے پولیس ایکٹ 2002ء کی روشنی میں ایک مسودہ قانون تیار کرلیا ہے۔ دوسری طرف سندھ حکومت آئی جی آئی جی سندھ کی جانب سے عدالت میں سفارشات جمع کرانے کے بیان پر معترض ہے۔ اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات، قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا کام پولیسنگ کرنا ہے نہ کہ پالیسیاں بنانا اور ہمارا کام قانون سازی کرنا ہے لیکن ایسا لگتا ہے پولیس کے کچھ افسران نے پالیسی بنانا شروع کردی ہے۔ پولیس کی ترجیح قیام امن ہونا چاہیے۔ امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے، اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ارشاد رانجھانی کو سرعام گولیاں ماری گئیں لیکن پولیس دیکھتی رہ گئی۔ 2 دن پولیس کانفرنس کراچی میں چل رہی تھی اور اس دوران سندھ میں 5 قتل ہوئے۔ پولیس کا کام کانفرنس کرنا نہیں پولیسنگ کرنا ہے جن لوگوں کا تعلق عوام سے نہیں ہوتا وہ اسی طرح کے منصوبے لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے اس سال آغاز میں ہی ایک بل پاس کیا گیا ہے اور سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں یہ قانون آیا ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد عام افراد کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ لوگ اگر عدالت جانے سے پہلے اپنے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں تو یہ قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کسی بھی معاشرے کا اہم جزو ہے اس قانون کے ذریعے ہم انصاف عام غریب آدمی تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ سندھ اسمبلی نے ریکارڈ قانون سازی کی ہے۔ اسمبلی کام کر رہی ہے اب ججز کو اپنا کام کرنا ہے۔ ثالثی کے کردار کو موثر بنانے کے لیے بل سندھ اسمبلی نے پاس کیا ہے تاکہ عام آدمی اس سے مستفید ہوسکے۔