ویک اینڈ

346
 فرح سلمان 

ویک اینڈ ملازمت پیشہ ، کاروباری افراد،طالب علموں کے لیے اتنا (جیسے مرنے والے کو کوئی زندگی کی نوید سنا دے) اہم کہ پورا ہفتہ اسی انتظار میں گزرتا ہے کہ کب جمعہ آئے گا ۔۔۔

اس زمرے میں دو گروپس آتے ہیں ۔
 ایک وہ جو خوش نصیب ہوتے ہیں یعنی جن کی دو دن کی چھٹی ہوتی ہے۔
۔دوسرے وہ جو صرف ایک دن کی چھٹی کے مستحق ہوتے ہیں ایسے لوگ بدقسمتی کے اونچے درجے میں آتے ہیں
۔گروپ 1 میں آنے والوں کو گروپ 2 کے لوگ رشک اور حسد کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
دراصل گروپ 2 میں رقابت کا جذبہ یہیں سے شروع ہوتا ہے اور وہ گاہے بگاہے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے جذبات کا اظہار کر بیٹھتے ہیں۔میرے خیال میں سارا قصور گروپ 2 کا نہیں ہوتا ۔کچھ کچھ غلطیاں گروپ 1 کی بھی ہوتی ہیں وہ نادانستگی میں اپنی خوشی کا برملا اظہار کر دیتے ہیں یہ بات دشمنوں سے برداشت نہیں ہوتی ۔
ارے معذرت میں یہ کیا لکھ بیٹھی ۔۔۔ مجھے دشمنوں کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا سوری سوری
!!!میری یہ حرکت تو چنگاری کو ہوا دینے کے مترادف ہے
بھئی اب یہ اتنا بڑا ایشو بھی نہیں ہے ۔۔۔
بس ہمیں صبر وتحمل اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔اور ایک دوسرے کے دکھ درد، غم و یاس میں ساتھ دینا چاہیے۔رفیق کو رفیق ہی سمجھنا چاہیے رقیب بنانے کی کیا ضرورت ہے۔
ہمیں چاہیے ہے کہ ہم گروپ 2 والوں کے گھر اپنے ویک اینڈ پر نہ جائیں اور نہ ہی فون کرکے اپنی فراغت اور بے فکری کا اظہار  کریں بلکہ گروپ 2 کے لوگوں کے گھر ان کے ویک اینڈ پر جائیں اور فون پر بھی کل کا دن بوریت میں گزرنے کا تذکرہ کریں اس طرح ان کی دل آزاری بھی نہیں ہو گی اور آپ کا وقت بھی اچھا گزر جائے گا۔