سوڈان: حکومتی تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ اگلے ہی روز مستعفی

236
سوڈان کی فوجی کونسل کے سربراہ عوض بن عوف نے معزول صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے اگلے ہی روز عوامی مظاہروں کے دوران اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر دفاع عوض بن عوف نے اپنے فیصلے کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کیا۔ انھوں نے لیفٹینینٹ جنرل عبدالرحمان برہان کو فوجی کونسل کا سربراہ نامزد کیا ہے۔
فوج کا کہنا تھا کہ وہ دو سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد انتخابات کرائے گی۔ لیکن مظاہرین نے منتشر ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تختہ الٹنے والے افراد عمر البشیر کے بہت قریبی ساتھی ہیں۔
فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرین احتجاج کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے صدر کی برطرفی کے ںعد تشکیل دی گئی فوجی کونسل کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری نظام کے نفاذ کے لئے سول قیادت اور سوڈان میں جاری تنازعات کے خاتمے تک اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔
ایک عرصے سے سوڈان پر حکومت کرنے والے عمر البشیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اس وقت زور پکڑ گئے جب دسمبر میں مہنگائی اور بدامنی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
مظاہرے کی سربراہی کرنے والی تنظیم سوڈان پروفیشنل ایسوسی ایشن نے کہا کہ عوض بن عوف کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ مظاہرین کی ‘فتح’ ہے۔
جمعرات کو عمر البشیر کی برطرفی کے باوجود مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کر دیا اور وہ دار الحکومت خرطوم میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے ڈیرہ ڈالے رہے اور فوج کی جانب سے کرفیو کے اعلان کی مذمت کرتے رہے۔
جمعے کو فوجی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ فوج طاقت کا استعمال نہیں کر رہی ہے اور سوڈان کا مستقبل مظاہرین طے کریں گے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ فوج امن و امان بحال رکھے گی اور کسی طرح کی گڑبڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔
فوجی کونسل نے یہ بھی کہا کہ وہ عمر البشیر کو آئی سی سی کے چارجز کا سامنا کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گی۔
عمر البشیر کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے دارفور جنگ کے معاملے میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کا مرتکب پایا ہے۔ تاہم عمر البشیر نے آئی سی سی کے چارجز کا انکار کیا ہے۔
کونسل نے تین مہینے کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے اور اس دوران آئین منسوخ رہے گا۔