تفہیم احکام

123

مفتی مصباح صابری
سوال: ایک صاحب نے اپنی دو بچیوں کی کمزور مالی پوزیشن کی وجہ سے گھر فروخت کرکے سب اولاد میں میراث والی ترتیب پر تقسیم کردیا، کیا یہ ٹھیک ہے؟
جواب: میراث ایک حکم شرعی ہے جس کا اجرا اس وقت ہوتا ہے جب کسی کا انتقال ہوجائے۔ انتقال سے قبل اپنی زندگی میں ہی کوئی صاحب اپنے مال کو تقسیم کرنا چاہے تو یہ ہبہ (تحفہ،گفٹ) کہلائے گا اور ہر انسان جو عاقل و بالغ ہے اپنی زندگی میں بحالت صحبت نفس وثبات ہوش و حواس اپنی ملک و جائداد جس کو چاہے ہبہ کر سکتا ہے خواہ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جارہا ہے) اس کا وارث یا قرابت دار ہو یا کوئی اجنبی شخص ہو، لیکن اگر ہبہ کرنے والے کی نیت یہ ہو کہ اپنے ورثا کو بغیر کسی سبب شرعی کے محروم کرے تو وہ عنداللہ گناہ گار ہوگا، عند الناس اس کا ایسا تصرف نافذ ہو جائے گا۔
سوال: بظاہر کوئی کم علم شخص کسی ایسے آدمی کی امامت کرسکتا ہے جو عالم ہو اور کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہو؟
جواب: امامت کے حق دار ہونے کی بحث میں علم سے مراد نماز کے معاملات کا علم ہے۔ اگر بظاہر کم علم آدمی نماز کے ارکان، واجبات، مفاسد اور دیگر چیزوں کا علم رکھتا ہے تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے اور اگر ایسا شخص باقاعدہ امام مسجد کے منصب پر فائز ہے تو پھر اسی کا حق ہے۔ اسی طرح کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنے والے کی امامت رکوع سجدہ پر قادر مقتدیوں کے لیے درست نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی امام اس طرح نماز پڑھے کہ بحالتِ قیام کرسی یا اسٹول پر بیٹھے لیکن رکوع اور سجدہ باقاعدہ ادا کرے، تو اس کے پیچھے ہر طرح کے مقتدیوں کی نماز درست ہوجائے گی۔ (شامی)
سوال: سنت نماز میں سورہ الفاتحہ کے بعد اگر سورت نہ ملائی جائے تو سجدہ سہو کیا جائے گا؟
جواب: فرائض، سنن مؤکدہ وغیرمؤکدہ کی ادائیگی کے طریقے میں چند چیزوں کا فرق ہے، جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جارہی ہے۔ فرض کی صرف ابتدائی دو رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ کسی سورت کا ملانا یا تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت کا ملانا واجب ہے اور آخری رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے۔ جبکہ سنتیں، مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ، دو ہوں یا چار، ان کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ وغیرہ کا ملانا واجب ہے۔
سوال: شعبان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟
جواب: شعبان اسلامی تقویم کا آٹھواں مہینہ ہے۔ اسے شعبان المعظم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک متبرک مہینہ ہے اور اس میں مسلمان نفلی روزے رکھتے ہیں۔ شعبان کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا مستحب ہے، حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ نبیؐ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔
ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبیؐ کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن آپؐ شعبان کے روزوں کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے۔ (مسند احمد، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ)
ابوداؤد کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ نبیؐ پورے سال میں کسی بھی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے لیکن شعبان کو رمضان سے ملاتے۔ لہذا اس حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبیؐ پورا شعبان روزہ رکھا کرتے تھے۔
البتہ احادیث کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کے سلسلے میں آپؐ کا کوئی لگا بندھا دستور ومعمول نہیں تھا، کبھی مسلسل روزے رکھتے، کبھی مسلسل ناغہ کرتے؛ تاکہ امت کو آپؐ کی پیروی میں زحمت، مشقت اور تنگی نہ ہو، وسعت وسہولت کا راستہ کھلا رہے، ہر ایک اپنی ہمت، صحت اور نجی حالات کو دیکھ کر آپؐ کی پیروی کرسکے، اسی لیے کبھی آپؐ ایامِ بیض یعنی اسلامی تاریخوں (13,14,15) کے روزے رکھتے، کبھی مہینے کے شروع میں ہی تین روزے رکھتے، کسی مہینے میں ہفتہ، اتوار اور پیر کے روزے رکھتے تو دوسرے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے روزے رکھتے، کبھی جمعے کے روزے کا اہتمام کرتے۔
عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نفلی روزے (کبھی) مسلسل رکھنا شروع کرتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب ناغہ نہیں کریں گے اور (کبھی) بغیر روزے کے مسلسل دن گذارتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگتا ہے کہ اب آپؐ بلا روزہ ہی رہیں گے۔ نیز فرماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا پورا روزہ رکھتے نہیں دیکھا، اسی طرح کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (مشکوٰۃ)
بعض روایتوں میں ہے کہ شعبان کے مہینے میں بہت کم ناغہ کرتے تھے، تقریباً پورے مہینے روزے رکھتے تھے۔ (الترغیب والترہیب)