رعشہ لاعلاج مرض نہیں، بروقت تشخیص، مناسب توجہ اور علاج سے اس مرض کے تیزی سے بڑھنے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ماہرین دماغی و اعصابی امراض

656

محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ملک میں رعشہ کے مریضوں کی تعداد قریباً ایک ملین سے کم ہے، طبی ماہرین کے مطابق دنیا میں اس وقت دس کروڑ لوگ رعشہ کی بیماری میں مبتلا ہیں، عورتوں کی نسبت ایک اعشاریہ پانچ مرد حضرات اس مرض کا شکا ر ہیں
نیورو لوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاﺅنڈیشن (نارف) کے زیر اہتمام پارکنسنز (رعشہ) کے عالمی دن کے موقع پر رعشہ کے علاج اور آگاہی سے متعلق سیمینار بیاد ہارون بشیر مرحوم کا انعقاد

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں پارکنسنز (رعشہ) کی بیماری میں مبتلا لوگوں کی صحیح تعداد کے متعلق مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، تاہم ایک اندازے کے مطابق ملک میں اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی تعداد ایک ملین سے کم ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے مرض کے متعلق کوئی آگاہی نہیں ہے، پاکستان میں رعشہ کے مرض میں مبتلا افراد زیادہ تر60 سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں لیکن اس بیماری میں40 سے50 سال کی عمر کے افراد بھی مبتلا ہو جاتے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر رعشہ کے مریضوں کی تشخیص صحیح طور پر نہیں ہو پاتی اور اس بیماری کی علامات کو بڑھاپے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار دماغی و اعصابی امراض کے ماہرین نے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاو¿نڈیشن (نارف) کے زیراہتمام منعقد پارکنسنز یا رعشہ کے عالمی دن کے موقع پر رعشہ کے علاج اور آگاہی سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آگاہی سیمینار کا مقصد ڈاکٹروں اور عوام کی رعشہ کے مرض سے متعلق آگاہی اور ان میں اس مرض کی صحیح تشخیص کرنے کا ادراک پیدا کرنا ہے۔ آگاہی سیمینار سے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاﺅنڈیشن (نارف) کے صدر پروفیسر محمد واسع شاکر، ڈاکٹر نادر علی سید چیئرمین پاکستان پارکنسنز سوسائٹی، ڈاکٹر عبدالمالک، ارشاد جان اور معروف صحافی وقار بھٹی نے خطاب کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نام ور ماہر امراض دماغ پروفیسر ڈاکٹرمحمد واسع شاکر نے کہا کہ اس آگاہی سیمینار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پارکنسنز یا رعشہ کے عالمی دن کے موقع پر معالجین، مریضوں اور ان کی نگہداشت کرنے والوں کو آگاہی فراہم کی جائے اور انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ رعشہ کے مرض میں مبتلا افراد کی نہ صرف صحیح تشخیص کر سکیں بلکہ اس کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرض کے متعلق عوامی آگاہی بہت ضروری ہے جس میں جلد تشخیص اور مریضوں کو عام انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بیماری ہے جو بڑھاپے کا ردعمل نہیں لیکن یہ ایک قابل علاج مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک زندگی بھر رہنے والا مرض ہے اور تمام عمر اس کا علاج جاری رہتا ہے اور علاج کے نتیجے میں لوگ عام زندگی گزار سکتے ہیں۔ پروفیسرڈاکٹر محمد واسع نے کہا کہ پاکستان میں اوسط عمر بڑھ گئی ہے اور یہ 60 سے65 سال تک پہنچ گئی ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ رعشہ کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو گیا ہے، ساٹھ سے پینسٹھ سال کی عمر کے لوگوں میں سے دو فی صد کو رعشہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، اس مرض کی تشخیص کے لیے کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں بلکہ حرکات و سکنات سے بآسا نی پتہ لگایا جا سکتا ہے، اس بیماری کے نتیجے میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور حرکات و سکنات سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں، اس کے علاج کے لیے دواو¿ں کے ساتھ ساتھ فزیو تھراپی اور تیمار داری بہت اہم ہوتی ہے، اس کی دوائیاں بآسانی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے گروپس اور رعشہ کے مریضوں کی تعلیم اور نارمل زندگی گزارنے کے لیے مدد کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ ایک خود مختار زندگی گزار سکیں۔ ڈاکٹر نادر علی سید چیئرمین پاکستان پارکنسنز سوسائٹی کا کہنا تھا کہ ایشیا میں رعشہ کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی اکثریت انڈیا، پاکستان اور قریبی ممالک میں موجود ہے لیکن بڑھتی ہوئی غربت کے باعث یہ بیماری بہت حد تک نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں50 فی صد سے زائد مریض ایسے ہیں جو پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن ان کے مرض کی صحیح تشخیص ہی نہیں ہوئی اور نہ انہیں کبھی علاج کی سہولیات میسر آئیں۔ ڈاکٹر نادر علی سید کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں رعشہ کے مرض کے متعلق آگاہی اور اس کے علاج سے متعلق حکومتی اداروں سمیت دیگر کو فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ عوام الناس میں اس مرض کے متعلق شعور پیدا کیا جا سکے جس سے ان کے اندر ان امراض سے لڑنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ ارشاد جان ڈائریکٹر پاکستان پارکنسنز سوسائٹی اور معروف صحافی وقار بھٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حقیقت ہے کہ معاشرے میں آگاہی و شعور پیدا کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت ہمارے ہاں خبروں کا معیار دوسرا ہے جس میں جرائم، بم دھماکوں یا اس طرح کی دوسری خبروں کو جگہ مل جاتی ہے جس کے نتیجے میں آگاہی اور شعور کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ روایتی میڈیا کو عوام الناس میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیورولوجی اویئرنیس اینڈ ریسرچ فاﺅنڈیشن (نارف) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ہم نارف کے تحت گزشتہ گیارہ سال سے رعشہ کے علاج اور آگاہی سے متعلق ملک بھر میں مختلف مواقع پر آگاہی پروگرامات منعقد کرتے رہے ہیں تاکہ اس معاشرے کو اس مرض کے متعلق آگاہی دے کر اس مرض پر قابو پانے میں مدد کی جا سکے جس سے اس کا مریض معاشرے کا ایک کارآمد فرد بن سکتا ہے۔ اس موقع پرڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ اس وقت ادویات کی قیمتوں میں گزشتہ چالیس سال میں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے جو تشویش ناک صورت حال ہے اس سے مریضوں اور ان کی نگہہ داشت کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ آسانی سے دستیاب ہوں۔ آگاہی سیمینار کے موقع پر رعشہ کے مریض بھی موجود تھے جو اس مرض سے لڑنے کے لیے پرعزم نظر آئے اور انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ رعشہ کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود مناسب دیکھ بھال اور نگہداشت کے نتیجے میں روزمرہ کے معمولات ٹھیک طرح سے سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کے بروقت استعمال اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے انسان نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔