فضل الرحمٰن کی نوازشریف سے ملاقات ،حکومت پس پردہ قوتوں کی ہے،سربراہ جے یو آئی

59

لاہور (نمائندہ جسارت) مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ان کی رہائش گاہ جاتی امرا میں ملاقات کی اور ملک کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا‘ دونوں رہنماؤں نے2 گھنٹے اکٹھے گزارے ۔ مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف سے ان کی صحت کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کی۔ جب کہ مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف کو سابق صدر آصف علی زرداری سے آئندہ ایک دو روز میں ہونے والی ملاقات کے بارے آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف سے اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کرنے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر بھی مشاورت کی۔ مولانا فضل الرحمن بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں عمران خان کی حکومت نہیں بلکہ اس کے پس پردہ قوتوں کی حکومتہے‘ ملین مارچ کی تیاری شروع کر دی ہے‘ وعدہ کرتے ہیں کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کو ان حکمرانوں سے نجات دلائیں گے‘ عمران خان ہماری فکر نہیں بلکہ اپنے خاتمے کا سوچیں کیونکہ ملک میں بدترین مہنگائی اور ہچکولے کھاتی معیشت پر عوام کو تشویش ہے جن لوگوں کو نظریہ پاکستان کا پتا نہیں انہیں ملک دے دیا گیا‘ عمران خان کی حکومت کے پیچھے اور طاقتیں ہیں‘ دیکھتے ہیں وہ ادارے کا استعمال کرکے کب تک عمران خان کو کھینچتی ہیں‘ نیب ایک انتقامی ادارہ ہے جس سے احتساب اور انصاف کی توقع نہیں‘ نیب سے متعلق ہمیں سخت فیصلے لینے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں ملاقات میں سیاسی امور پر بھی بات ہوئی ہے اور مختلف ایشوز پر اتفاق رائے ہوا ہے کیونکہ اس وقت ملک میں بدترین مہنگائی اور ہچکولے کھاتی معیشت پر پوری قوم کو تشویش ہے اس لیے اب ملک کے مستقبل کو تو ہم سیاسی جماعتوں نے ہی بچانا ہے تو اس کے لیے حکمت عملی بنائیں گے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ہمارا وزیر اعظم جعلی اور خلائی ہے کیونکہ جیسے ہی الیکشن ہوئے تھے تو تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آگئی تھی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور حکومت کی اکثریت جعلی ہے جس کی وجہ سے ہم پر وزیر اعظم کو نصب کر دیا گیا‘پی پی و ن لیگ ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آصف زرداری سے بھی جلد ملاقات کروں گا اور ان سے بھی انہیں امور پر گفتگو ہوگی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام امور پر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوں۔