جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی سینیٹ کا تیسرا اجلاس

333

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی سینیٹ کا تیسرا اجلاس گزشتہ روز منعقد کیا گیا۔ یونیورسٹی کی پرو چانسلر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی غیر موجودگی میں اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے کی۔ اجلاس میں جے ایس ایم یو کی کارکردگی اور مالی تخمینوں کا جائزہ لیا گیا اور گزشتہ دو برسوں کے بجٹ اور رواں سال کے تخمینے کی منظوری دی گئی۔ سینیٹ نے گزشتہ میٹنگ کے منٹس کی منظوری دی اور وائس چانسلر کی جانب سے پیش کردہ باہمی پیش رفت کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی2012ءمیں ایک واحد ملحقہ کالج کے ساتھ شروع ہوئی لیکن اب اس کے اداروں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے، دس کالج یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہیں جب کہ 7 ہزار سے زائد طلبہ انرولڈ ہیں۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی سماجی ذمے داری کے تحت شروع کیے گئے دانتوں اور فیملی میڈیسن کے شعبہ جات اور کم پیسوں میں معیار ی تشخیصی سہولیات فراہم کرنے والی لیبارٹری کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ یونیورسٹی کے تحت تھرپارکر میں لگائے گئے طبی کیمپ بھی سینیٹ میٹنگ میں زیر بحث آئے۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے تحت پہلی بار صوبے میں تمام میڈیکل کالجز کے داخلوں کے لیے ایک انٹری ٹیسٹ کے تحت مرکزی پالیسی پر عمل درآمد کرایا گیا جو کام یاب ہوا اور اس ضمن میں شکایات بھی موصول نہیں ہوئیں۔ وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع نے سینیٹ کے معزز اراکین کو بتایا کہ یونیورسٹی نے تمام امتحانات آن لائن کر لیے ہیں جب کہ منسلک کالج بھی آن لائن نظام پر منتقل ہو گئے ہیں اس ضمن میں کالجوں کی مدد بھی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر444 سکیورٹی کیمرے بھی نصب کیے جس کے ساتھ2 مانیٹرنگ اسٹیشن، فائر فائٹنگ سسٹم اور دونوں کیمپس میں خار دار تاریں لگائی گئیں۔ یونیورسٹی کی اسکلز لیب کے لیے 10 کروڑ کی جدید مشینری خریدی گئی جب کہ جے ایس ایم یو المنائی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا نے 15 کروڑ روپے کی مشینری فراہم کی۔ یونیورسٹی کی بسوں کی تعداد بڑھ کر 17ہوگئی ہے جن میں 6 نئی بسوں کا اضافہ جلد متوقع ہے۔ یونیورسٹی کے تحت طبی تعلیم اور رمضان کے موضوع پر منعقد کی گئی کانفرنسوں کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ یونیورسٹی کی سینیٹ اجلاس میں صوبائی سیکریٹری صحت سعید احمد اعوان، صوبائی سیکریٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز، سی ای او انڈس اسپتال ڈاکٹر عبدالباری خان، نادرہ پنجوانی، ڈاکٹر صادقہ جعفری، ڈاکٹر زینت عیسانی و دیگر نے بھی شرکت کی۔