مکھیوں اور مچھلیوں کے درمیان گفتگو

216

ایک عجیب و غریب تجربے میں روبوٹس کی مدد سے دو بالکل مختلف اقسام کے جانوروں کا باہم رابطہ کرایا گیا ہے جن میں سے ایک آبی مخلوق یعنی مچھلی ہے تو دوسری اڑنے والا کیڑا یعنی مکھی ہے۔
مکھیاں اور مچھلیاں آپس میں رابطہ نہیں کرتیں لیکن اگر وہ رابطہ کربھی لیں تو آخر وہ کیا باتیں کریں گی۔ اسی بات کو جاننے کے لیے چار یورپی جامعات نے اے ایس ایس آئی ایس آئی بی ایف منصوبہ شروع کیا ہے اس تجربے میں آسٹریا کی مچھلیوں نے اور سوئزرلینڈ میں موجود مکھیوں نے روبوٹ کے ذریعے آپس میں رابطہ کروایا گیا ہے۔
تجربے میں دونوں اقسام کے جانوروں نے سگنلز کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجے اورآخر میں ایک دوسرے کے فیصلوں میں مدد فراہم کرنا شروع کردی۔ اس حیرت انگیز تحقیق کی تفصیلات سائنس روبوٹکس میں شائع ہوئی ہے۔ منصوبے پر کام کرنے والے موبائل روبوٹس گروپ (موبوٹس) سے وابستہ سائنسداں نے بتایا کہ انہوں نے دو مختلف جانوروں کے درمیان ان کی حرکات سکنات کی معلومات کا تبادلہ کرایا ہے جو ان کے رویوں پر بھی اثرانداز ہوا ہے۔
پہلے تجربے میں ایک جاسوس روبوٹ مچھلی کو اس جیسی مچھلیوں کے غول میں شامل کیا گیا جس نے تمام مچھلیوں کو اپنے انداز میں تیرنے پر مجبور کیا یعنی اپنے اشارے پر تیرایا۔ اس کے بعد ماہرین نے اس روبوٹ مچھلی اور دیگر تمام مچھلیوں کو آسٹریا میں ایک ایسی تجربہ گاہ سے جوڑا گیا جہاں ایک پلیٹ فارم پر شہد کی مکھیاں روبوٹ ٹرمینلز کے آس پاس بیٹھی تھیں۔ اب ہر گروپ کے روبوٹ نے اپنے لحاظ سے سگنل خارج کیے، مچھلیوں میں موجود روبوٹ نے اشکال، رنگ اور دھاری دار پٹیوں کے سگنل دیے، جو دم کی حرکت، تھرتھراہٹ اور دیگر حرکات سے وابستہ تھے جبکہ مکھیوں کے پاس روبوٹ نے تھرتھراہٹ، درجہ حرارت اور ہوائی حرکیات کے سگنل دیے۔ اب دونوں اقسام کے جانوروں نے سگنل پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ۔ مچھلیاں ایک سمت میں تیرنے لگیں تو مکھیاں صرف ٹرمینل پر جمع ہوکر گھومنے لگیں۔ اس طرح روبوٹ نے دو گروہوں کی حرکیات ریکارڈ کیں، معلومات کا باہم تبادلہ کرایا اور اسے جانوروں کی سمجھ میں آنے والے سگنلز میں تبدیل کردیا۔
اس تجربے میں 700 کلومیٹر دور موجود دو مختلف اقسام کے جانوروں کے درمیان روبوٹ سے سگنل کا تبادلہ کرایا گیا۔ ماہرین نے غور سے نوٹ کیا تو مچھلی مکھی سے متاثر ہوئی اور مکھیاں مچھلیوں سے متاثر ہونے لگیں اور ایک دوسرے کی خصوصیات بھی سیکھنے لگیں۔