حیدری بلوچ فٹبال کلب

159

حیدری بلوچ فٹبال کلب کا شمار پاکستان کے قدیم ترین کلبوں میں ہوتا ہے جس کی بنیاد 1948ء سے قبل رکھی گئی ۔ واجہ حیدربلوچ حیدری بلوچ فٹبال کلب کے بانی اور پہلے چیئرمین تھے۔ واجہ حیدر کا لگایا گیا پودا آج ایک تنا ور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ حیدر ی بلوچ فٹبال کلب نے وطن عزیز کو کئی انٹرنیشنل پلیئرز سے بھی نوازا ہے جنہوںنے نا صرف پاکستان بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی قومی پرچم بلند کیا۔تاہم آج نہ صرف حیدری بلوچ بلکہ کراچی کے بے شمارٹیلنٹ سے بھرپور کلبزانتظامی بدنظمی کا شکار ہوکر خزاں کے پتوں کی طرح آہستہ آہستہ بکھررہے ہیں ،ستم ظریفی یہ کہ اس معاملے پر پاکستان فٹبال فیڈریشن نے بھی اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں ۔ ڈسٹرکٹ لیول پر کھیلنے والے یہ کلبز کئی مشکلات کاشکار ہیں جس کا زالہ فوری طورپر نہ کیاگیا تو ممکن ہے کچھ عرصے بعد یہ کلبز جو آج وینٹی لیٹر پر موجود ہیں کل کو لحد میں نہ اتر جائیں۔
حیدری بلوچ فٹبال کلب کے موجودہ چیئرمین حسین بخش بلوچ کا تعلق لیاری سے ہے جنہوںنے اپنی زندگی فٹبال کھیل کے فروغ کے لیے صرف کردی ہے۔ حسین بخش بلوچ زمانہ طالب علمی سے ہی حیدری بلوچ فٹبال کلب سے منسلک ہوگئے تھے اور ایک ماہ قبل ہی چیئرمین کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ اس سے قبل حسین بخش بلوچ حیدری بلوچ فٹبال کلب کی ایگزیکٹوں کمیٹی ممبر بنے اورپھرجوائنٹ سیکریٹری سے ترقی کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر پہنچے اور اب کلب کے چیئرمینہیں۔
پاکستان کے قدیم ترین فٹبال کلب حیدری بلوچ کے چیئرمین حسین بخش بلوچ سے فٹبال کھیل کے حوالے سے روزنامہ جسارت نے خصوصی بات چیت کی جوقارئین کی نذر ہے۔
سوال۔ ملک میں فٹبال کھیل کو عروج کیوں حاصل نہ ہوسکا۔ ؟
جواب۔ ایسا نہیں ہے۔ فٹبال کو عروج کے بعد زوال دیکھنا پڑا ہے جس طرح ہاکی کا عروج تھا اورآج ہاکی سب کے سامنے ہے ،کچھ اس طرح کا معاملہ بھی فٹبال کے ساتھ ہوا ہے۔ 70ء کی دہائی فٹبال کے لیے سہنری دور تھا ،مگر آپسی گروپ بندیوں نے اس کھیل کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
سوال۔ فٹبال کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔ ؟
جواب ۔ فٹبال کے فروغ کے لیے کئی چیزیں بہت ضروری ہیں جس میں سے سب سے پہلے لیگ کا انعقاد ہونا۔ دنیا میں بھرمیں فٹبال لیگز کھیلی جاتی ہیں ،ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی فٹبال لیگز تواتر سے کھیلی جارہی ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ لیگز کے بغیر اس کھیل کا فروغ ناممکن ہے۔ آپ اس بات سے اندازہ لگالیں کہ اس وقت جوواجہ عبدالغنی ٹورنامنٹ کھیلاجارہا ہے اس کا انعقاد 35سال بعد ممکن ہوسکا ۔ اس سے قبل حیدری فٹبال سیریز 1982ء میں کھیلی گئی تھی جس کا انعقاد گنجی گرائونڈ موجودہ پیپلزاسٹیڈیم میں ہوا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کا سہرا بھی کلبز کے سرپر ہی جاتا ہے ،اگر کلبز ہمت سے کام نہ لیتے تو یہ ٹورنامنٹ بھی منعقد نہ ہوپاتا۔ اگریوں کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس وقت وینٹی لیٹر پر موجود مردہ کھیل کو جو آکسیجن فراہم کی جارہی ہے اس کا سہرا بھی کلبز کے سر جاتا ہے۔
سوال۔ حیدری فٹبال سیریز میں کتنے ٹورنامنٹ تھے۔ اور اس کا چیمپئن کون تھا۔ ؟
جواب۔ حیدری فٹبال سیریز میں کل چار ٹورنامنٹ کھیلے گئے جن میں ماڑی پور چیمپئن اورحیدری بلوچ فٹبال کلب رنراپ رہا۔ اس کے علاوہ سید علی محمد ،غلام مصطفی ،محمد سفر اور واجہ حیدرٹورنامنٹ کھیلے گئے تھے۔ اور آج 35سال بعد واجہ عبدالغنی فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیاگیا جس میں 128ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ واجہ عبدالغنی حیدری بلوچ فٹبال کلب کے سینئر ممبران میںسے تھے جو بعدازاں چیئرمین کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ واجہ عبدالغنی نے ثقافت اورسماجی کاموںمیں ہمیشہ بڑھ چڑ کر حصہ لیا اورآج بلوچستا ن میں واجہ عبدالغنی شہید کے نام کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
سوال۔ فٹبال کا عروج کس دور میں رہا۔ ؟
جواب۔ فٹبال کا عروج 71ء میں زیادہ رہا ۔ جب یہاں کی ٹیمیں ڈھاکا کھیلنے جایا کرتی تھیں ،یہ فٹبال کا سنہری دور تھا۔ وہاں کے کھلاڑی بھی یہاں آکر کھیلا کرتے تھے ۔ پروفیشنل ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوتا تھا جس سے ہمارے اوران کے کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتاتھا۔ لیکن اب ایسا کچھ نہیں۔ نہ کوئی لیگز کھیلی جاتی ہے اور نہ ہی ملکی سطح پر کوئی ٹورنامنٹ منعقد کیے جاتے ہیں جس سے نیا ٹیلنٹ ملنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔اور جو ٹیلنٹ موجود ہے وہ بھی انتظامی بدنظمی کا شکار ہوکر ضائع ہورہاہے۔ 1988ء میں 18ڈپارٹمنٹ ہواکرتے تھے جو فٹبال کے فروغ میں پیش پیش رہے۔ اورآج محض 6ڈپارٹمنٹ رہ گئے ہیں ،پی آئی اے جیسے ادارے نے بھی فٹبال کھیل کا ڈپارٹمنٹ بند کردیا۔ ایسے میں نوجوان کھلاڑی مایوس ہوکر دوسرے کاموں کی طرف نکل گئے ہیں۔ یہ فٹبال کے ساتھ بہت برا ہوا ۔ 18سے 30سال کے گیم میں جولڑکے آرہے ہیں یہ کہاں جائیں گے۔ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان کھلاڑی کھیل سے دور ہورہے ہیں۔ یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جن کے باعث آج فٹبال کھیل مردہ ہوچکا ہے ۔
سوال۔ حیدری بلوچ فٹبال کلب نے اب تک کتنے ٹورنامنٹ کھیلے اور کتنی مرتبہ چیمپئن رہی۔ ؟
جواب۔ اس کا فوری جواب دینا تو مشکل ہے۔ کیوں کہ حیدری بلوچ نے بے شمار ٹورنامنٹ میں حصہ لیا اور اعزاز کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ٹورنامنٹ کے پہلے رائونڈ میں باہر نہیں ہوئی۔ کوارٹر فائنل تک حیدری بلوچ کلب نے کھیلنے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے ،اس کے علاوہ کئی ٹورنامنٹ میں چیمپئن کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے۔2018ء میں سائوتھ کی طرف سے لیگ چیمپئن کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔ جب کہ 2019ء میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں حیدری بلوچ کو پنالٹی ککس پر فائنل میں شکست کا سامنا کرناپڑا ۔2018ء میں حیدری بلوچ فٹبال کلب نے 10سے 12ٹورنامنٹ میںشرکت کی جس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جب کہ 2019ء میں ہی تین آل کراچی ٰفٹبال ٹورنامنٹ کی چیمپئن کا اعزاز بھی حیدری بلوچ فٹبال کلب کے پاس ہے۔ 1985ء میں شاہ عبدالطیف بھٹائی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیاگیا تھا جس کی چیمپئن حیدری بلوچ کلب رہا۔ 81ء میں ملتان میں محمداسلم فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں حیدری بلوچ کوپنالٹی ککس پر ایم سی بی کے ہاتھوں ایک گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا او ر حیدری بلوچ رنر اپ رہا۔ یہ وہ ٹورنامنٹ تھے جو پورے پاکستان کی سطح پر کھیلے گئے تھے اور حیدری بلوچ نے ان ٹورنامنٹ میں کراچی کا نام روشن کیا تھا۔ ان ٹورنامنٹ میں شرکت کا خرچہ کلب نے خودبرداشت کیا تھا اس میں بھی کسی نے کوئی سپورٹ نہیں کی تھی۔
سوال۔ حکومتی سطح پراب تک کتنے ٹورنامنٹ منعقد ہوئے۔ ؟
جواب۔ سوال بہت اچھا ہے ۔ مگر جواب مایوس کن ہے۔ کیوں کہ اب تک جتنے بھی ٹورنامنٹ منعقد ہوئے وہ کلبز نے اپنے بل بوتے پر کیے ہیں۔ اس میں کسی بھی سطح پر نہ تو حکومت کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی فیڈریشن نے کوئی سپورٹ کی ۔ ہم جو بھی ٹورنامنٹ کراتے ہیں اس میں ٹیموں سے انٹری فیس تک وصول نہیں کرتے اورانعامات بھی اپنی جیب سے ہی ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری اپنی ایک کمیونٹی ہے جس میں فٹبال سے بے حد پیار کرنے والے لوگ موجود ہیں جو ٹورنامنٹ کے انعقاد سے لے کر اختتام تک تمام اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔ ان میں ہمارے دوست احباب بھی شامل ہیں جو ہمیں فٹبال کو زندہ رکھنے کی مدمیںکچھ نہ کچھ مدد کرتے رہتے ہیں۔
سوال۔ کلب کے مسائل کے حل کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
جواب۔ ہمارا کلب ڈسٹرکٹ سائوتھ کے ساتھ منسلک ہے۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ صوبائی فیڈریشن اور صوبائی فیڈریشن پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ساتھ منسلک ہے۔ اوپر سے آنے والے احکامات نیچے تک پہنچائے جاتے ہیں ،تاہم مسائل بے شمار ہے اور ڈسٹرکٹ کے پاس وسائل نہیں جو کلبز کے مسائل کا خاتمہ کرسکے۔ اس سلسلے میں صوبائی فیڈریشن اور پاکستان فیڈریشن کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کلبز کسی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ اپنے بل بوتے پر لیتے ہیں۔ انہیں نہ کٹ فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی دیگر بنیادی سامان فراہم کیاجاتا ہے۔ آنے جانے کے خرچے سے لے کر اگر کسی کھلاڑی کو کوئی چوٹ لگ جائے تو اس کا علاج بھی وہ خود کراتا ہے۔ کلبز کے مسائل کے حل میں کسی کو دلچسپی نہیں ۔
سوال۔ کلب میں صرف کھیل پر توجہ دی جاتی ہے یا کھلاڑیوں کو تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیاجاتا ہے۔ ؟
جواب۔ الحمداللہ حیدری بلوچ فٹبال کلب کے پاس جہاں دیگر اعزازات ہیں وہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کلب نے اپنے کھلاڑیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ کلب کے جنرل منیجر کے عہدے پررہنے والے انجینئرامام بخش بلوچ کلب کے چیئرمین اور پیٹرن انچیف بھی ہیں ،اسی طرح شہید بینظیر بھٹویونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ بھی کلب کے پیڑن انچیف ہیں ۔ انجینئر عالم بلوچ جو اس وقت امریکا میں ہیں اورڈاکٹر اعظم بلوچ آئرلینڈ میں ہیں یہ سب لوگ کلب کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں اورکھلاڑیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں بھی ان کا کردار اہم ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کلب اسٹیڈی سرکل میں ہے جہاں تعلیم کو بھی اولین ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے۔
سوال۔ کیا کلب لیول پر بھی گروپ بندی ہوتی ہے۔؟
جواب۔ نہیں کلب لیول پر کوئی گروپ بندی اب تک سامنے نہیںآئی۔ گروپ بندی ہمیشہ اوپری سطح پر ہوتی ہے۔ اور کلب نچلی سطح پر ہے،تاہم اوپری سطح پر ہونے والی گروپ بندی کے اثرات نچلی سطح پرموجود کلبز پر ضروراثرانداز ہوتے ہیں۔ گروپ بندی ڈسٹرکٹ سطح سے شروع ہوکر پاکستان فیڈریشن کی سطح تک جاپہنچتی ہے ۔ جس کی حالیہ مثال پوری دنیا کے سامنے ہے،اسی گروپ بندی کے باعث پاکستان فٹبال فیڈریشن کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور عدلیہ کی دخل اندازی کے باعث پاکستان فٹبال فیڈریشن پرپابندی عائد ہوئی۔ اور اب بھی پابندی کی تلوار لٹکتی ہوئی نظرآتی ہے۔
سوال۔ ان گروپ بندی سے فٹبال کو کتنانقصان ہوتا ہے۔؟
جواب۔ لازمی بات ہے اگر کوئی شخص کام کررہاہے اور اسے اچانک ہٹا دیاجائے تو معاملات خراب ہوں گے۔ فیفا اورایف سی آج تک پاکستان کی نئی باڈی کو تسلیم نہیں کررہا۔ جس کا سیدھا سیدھا مطلب پابندی ہے۔ جس طرح پہلے پابندی لگی اور ہمارے انٹرنیشنل کھلاڑی گھروں پر بیٹھ گئے اب اگر ایسا ہوتا ہے تو لازمی بات ہے کھیل کو مزید نقصان پہنچے گا۔
سوال۔ الیکشن کا کیا طریقہ کار ہے۔ ؟
جواب۔ سب سے پہلے کلبز کے الیکشن ہوتے ہیں جس کے بعد ڈسٹرکٹ سطح پر الیکشن کا انعقاد کیاجاتا ہے،پھر صوبائی اور پھر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے انتخابات ہوتے ہیں۔ کلبز کے الیکشن ہوگئے ہیں اور اب اپریل یا مئی میں ڈسٹرکٹ کے انتخابات ہونا ہیں ۔
سوال۔ موجودہ فیڈریشن کی باڈی سے آپ مطمئن ہیں۔؟
جواب۔ ہمارے مطمئن ہونے نہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اصل میں فیفا اورایف سی کو مطمئن ہونا چاہیے ۔ آپ جب بھی انتخابات کرائیں عالمی فیڈریشن اس سے آپ کو نہیں روکتی۔ وہ صرف اپنا نمائندہ بھیج دیتی ہے اور انتخابات کو مانیٹر کر کے اپنی رپورٹ آگے بھیج دیتی ہے۔ جس کے بعد جو بھی کامیاب ہو وہ عالمی فیڈریشن اسے تسلیم کرتی ہے۔
سوال۔ فٹبال کھیل کے زوال کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ؟
جواب۔ آج فٹبال کے زوال میں اہم کردار پاکستان فٹبال فیڈریشن کا ہے۔ کیوں کہ فیڈریشن سال میں صرف دو ٹورنامنٹ کا انعقادکراتا ہے۔ جب تک گراس رو ٹ لیول پر کام نہیں ہوگا اس پر توجہ نہیں دی جائے گی فٹبال کو عروج حاصل نہیں ہوسکتا۔دوسری اہم وجہ لیگز کا نہ ہونا بھی کھیل کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ فیڈریشن صرف ڈپارٹمنٹ کو دعوت دے کر ٹورنامنٹ منعقد کرادیتی ہے۔ کلب کی سطح پر کوئی کام نہیں کررہی ۔ اصل ترقی ڈپارٹمنٹ کی نہیں کلب کی ہوتی ہے جہاں سے کھلاڑی آگے نکلتے ہیں پھر ڈپارٹمنٹ انہیں لے لیتے ہیں ۔ دیکھاجائے تو اصل ترقی کلبز کو ہی دینی چاہیے مگر یہاں الٹا سسٹم ہے ڈپارٹمنٹ کو ترقی دی جاتی ہے اور کلبز کو پیچھے رکھا جاتا ہے۔ اگر کلبز نہ ہوتو ڈپارٹمنٹ کے پاس کھلاڑی کہاں سے آئیں گے۔ ؟ پاکستان میں اگر فٹبال کو پھرسے زندہ کرنا ہے تو سب سے پہلے کلبز اورگراس روٹ لیول پر کام کرنا ہوگاجہاں سے کھلاڑی کھیل کر آگے جاتا ہے۔
سو ال۔ ایک کھلاڑی کتنی عمر تک کھیل سکتا ہے۔؟
جواب۔ کلب کے پاس 13سے 15سال تک کی عمر کے کھلاڑی آتے ہیں، ایک کھلاڑی کی کھیل کی مدت محض 10سے 12سال ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ وہ نہیں کھیل سکتا ۔ ہمیں اس پر دھیان دینا ہوگا کیوں کہ یہاں کھلاڑی کے کھیل کی عمر زیادہ نہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے کھلاڑی اپنے کھیل پر دھیان نہیں دیتا جس کی وجہ سے کئی بہترین صلاحیت کے حامل کھلاڑی اس کھیل کو الوداع کرچکے ہیں،اور اس میں کسی کا نقصان نہیں بلکہ ملک کا نقصان ہے۔
سوال۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ کلبز کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
جواب۔جی ہاں ،ڈسٹرکٹ سائوتھ ہم سے تعاون کرتا ہے مگر اس کے پاس بھی وسائل کی کمی ہے جس کی بناء پر ہمارے مسائل جوںکے توں ہی ہیں۔ میں آپ کے توسط سے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنا بھولا ہوا وعدہ یاد کرانا چاہتا ہوں ۔2015ء 14اگست کو پیپلزاسٹیڈیم میں کھیلے گئے فٹبال ٹورنامنٹ میں حیدری بلوچ نے فتح حاصل کی اور وزیراعلیٰ نے 5لاکھ روپے کیش انعام سے نوازا۔ جس کے بعد انہوںنے پیپلزاسٹیڈیم گرائونڈ کی ازسرنوتعمیر کاوعدہ کیاتھا مگر آج اس بات کو کافی وقت گزر چکا ہے نہ تواسٹیڈیم کی ازسرنوتعمیر ہوئی ہے او ر نہ اب وہاں کوئی کھیل منعقد ہوتا ہے۔ لہذا وزیراعلیٰ سندھ اپناوعدہ پوراکریں، اور اسٹیڈیم میں کھیلوں کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔
سوال ۔ حیدری بلوچ فٹبال کلب سے اب تک کتنے ایسے پلیئرز ہیں جو انٹرنیشنل لیول پر کھیل چکے ہیں ۔
جواب۔ قاسم سومار اور عیسیٰ سینئر کھلاڑی ہیں اور انہو ں نے انٹرنیشنل ایونٹس میں جہاں ملک کی نمائندگی کی وہیں حیدری بلوچ فٹبال کلب کی بھی نمائندگی کی ہے۔ قاسم سومار اس وقت کلب کے ہیڈکوچ کے طورپر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جب کہ جونیئرز میں عزیر صادق کے پی ٹی ،سعید بابرسول ایوی ایشن ،آفتاب احمد سوئی سدرن گیس کمپنی ،شاہ نواز پی ڈبلیوپی ،رستم سوئی سدرن گیس ،ماجد اسٹیٹ لائف اورسورماقاسم سندھ پولیس کی طرف سے انٹرنیشنل ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں،یہ تمام کھلاڑی حیدری بلوچ فٹبال کلب سے تعلق رکھتے ہیں۔