فٹبال گرائونڈ کی ابتر صورت حال اورمحکمہ کھیل کی خاموشی

193

کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت گرائونڈ کی صفائی کرتے ہیں
کھیل کے دوران نہ کوئی ایمبولینس اورنہ ہی پیرامیڈیکل اسٹاف موجود ہوتا ہے

لیاری کا ککری گرائونڈ ہو یا گلبائی کا محمدن فٹبال گرائونڈ یا مشرف کالونی میں فیفا کی جانب سے بنایاگیا مشرف کالونی فٹبال گرائونڈ ہو،ان تمام فٹبال گرائونڈ کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے آج یہ گرائونڈ کھیل کے قابل نہیں رہے۔ تاہم فٹبال کھیل کے شیدائی اپنی مدد آپ کے تحت اس گرائونڈ کی بہتری میں ہر وقت کوشاں نظرآتے ہیں۔ گزشتہ روز گلبائی محمدن فٹبال گرائونڈ جانے کا اتفاق ہوا ،جہاں واجہ عبدالغنی فٹبال ٹورنامنٹ کا میچ جاری تھا۔ گرائونڈ میں جگہ جگہ چھوٹے بڑے پتھروں کی بھرمار تھی ،کھلاڑی ان تمام باتوں سے بے نیاز ہوکر اپنے کھیل کی طرف دھیان دیے ہوئے تھے۔ انہیں اس بات کی غرض نہیں تھی کہ اگر گرنے کے باعث کوئی چوٹ لگے گی تو کیاہوگا۔ جہاں نہ تو کوئی ایمبولینس موجود تھی نہ ہی کوئی پیرامیڈیکل اسٹاف جو فوری طورپر طبی امداد فراہم کرکے اس کھلاڑی کی جان بچاسکے۔ گرائونڈ کو گندگی اور جنگلی جہاڑیوں سے پاک کرنے میں نوجوان کھلاڑیوں کا ہاتھ ہے۔ جنہوںنے فٹبال کھیل سے اپنی محبت کو مثال بناتے ہوئے اس گرائونڈ کو کھیل کے قابل بنایا۔ گلبائی محمدن گرائونڈ میں حیدری بلوچ کلب کے کھلاڑی پریکٹس بھی کرتے ہیں۔ تاہم اس گرائونڈ میں کوئی سہولت میسر نہیں،نہ کوئی ڈریسنگ روم ہے جہاں کھلاڑی چینج کرسکیں اور نہ کسی تماشائی کے بیٹھنے کی جگہ ہے جہاں وہ کھیلنے والے کو داد دے سکیں۔ سرکاری عدم توجہی کی یہ حالت ہے کہ اس گرائونڈ کا آج تک کسی بھی ذمے دار نے دورہ نہیں کیا۔ داخلی دروازہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔جہاں ایک ابلتا ہوا نالہ کھلاڑیوں کے آنے جانے میں ہمیشہ دشواری کاباعث بنتا ہے۔ جب کہ گرائونڈکے اطراف دیواریں نہ ہونے کے باعث جانوروں کی آمد روفت بھی جاری رہتی ہے جس کے باعث کھیل کو بھی روکنا پڑتا ہے۔ گرائونڈ میں جال بھی کھلاڑیوں نے اپنے چندے سے لگوائے ہیں۔ میئر کراچی ہوں یا صوبائی وزیر کھیل جن کے کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے دعوے تو بے شمار نظرآتے ہیں مگر درحقیقت گلبائی محمدن فٹبال گرائونڈ ان کے دعوئوں پر منہ چڑا رہا ہے۔
گرائونڈ میں جہاں دیگر کوئی بنیادی سہولت نہیں وہاں پانی کا بھی کوئی بندوست نہیں۔ گرائونڈ کی بائونڈری پر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اس بات کا ثبوت ہے کہ صفائی ستھرائی کا عملہ بھی یہاں نہیںآتا۔ گلبائی محمدن گرائونڈ پر اتوار کو جہاں فٹبال کھیلاجاتا ہے وہیں گرائونڈکے کچھ حصے پر کھلاڑی والی بال اور کرکٹ کھیلتے ہوئے بھی نظرآتے ہیں۔ گلبائی میں کھیلوں کا یہ واحد گرائونڈ ہے جو دیگر گرائونڈکی طرح اپنی بے بسی پر جہاں نوح کناں ہے وہیں حکومتی توجہ کا طلبگار بھی ہے۔