پاکستان میں بہترین فٹبالرز مایوسی کا شکار ہیں،عزیر صادق

143

بے روزگاری کے باعث کھلاڑی فٹبال کھیل سے دور
ہورہے ہیں، انٹرنیشنل پلیئرزجوتے اورکٹس بھی اپنے
پیسوں سے خریدنی پڑتی ہے،پلیئرزکاحکومت سے شکوہ

گلبائی محمدن گرائونڈ میں موجود ہماری ملاقات حیدری بلوچ فٹبال کلب کے ایک انٹر نیشنل پلیئرز عزیر صادق سے ہوئی ۔ عزیر صادق نے بتایا کہ اس گرائونڈ کو کھیل کے قابل بنانے میں ہمارے پلیئرز کا کارنامہ ہے جنہوںنے اپنی مدد آپ کے تحت اس گرائونڈ کی صفائی کی اوریہاں موجود گندگی اورجنگلی جھاڑیوں کو صاف کرکے واجہ عبدالغنی ٹورنامنٹ کا انعقاد ممکن بنایا۔ عزیر صادق کا تعلق حیدری بلوچ کلب سے ہے اور وہ سول ایوی ایشن کی طرف سے انٹرنیشنل ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عزیر صادق نے ایران اور چین میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ ان کے مطابق دولیگ کھیلی جن میں سے ایک جیتی اور ایک میں شکست ہوئی۔ بقول عزیر صادق کے ہمارے ملک میں بہترین کھلاڑی موجود ہیں۔جنہیں اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع تک میسر نہیںآتا۔ حکومتی عدم توجہ کے باعث بہترین ٹیلنٹ ضائع ہورہاہے۔ اگر حکومتی سرپرستی ہو تو یہ کھلاڑی دنیا بھرمیں پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ عزیر بلوچ ان نوجوانوں میں سے ہیں جو فٹبال کے فروغ میں ہر وقت کوشاں نظرآتے ہیں تاہم آج وہ بھی آہستہ آہستہ حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کی دلدل میں دھنسے جارہے ہیں۔ عزیر صادق کے مطابق ہم کس طرح انٹرنیشنل کھلاڑیوں کا مقابلہ کرسکتے ہیںجب کہ ہمارے ملک میں نہ تو کوئی لیگزکھیلی جاتی ہے اور نہ ہی تواتر سے کوئی ٹورنامنٹ منعقد کیے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک میں لیگز پر بھرپورتوجہ دی جاتی ہے جس کے باعث ان کے کھلاڑی دوسرے ملک جاکر اپنے کھیل کو نکھارتے ہیں اور دوسرے ممالک وہاں جاکر کھیل کر اپنے ٹیلنٹ کو محفوظ بناتے ہیں ،جب کہ ہمیں ایسا کوئی موقع میسر نہیں۔ عزیر صادق کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے بہت سے کھلاڑی موجود ہیں جنہیں موقع کی ضرورت ہے۔تاہم آج ہم مایوسی کاشکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں یہاں اپنا کوئی مستقبل نظرنہیں آرہا۔ اورصرف میں ہی نہیں بلکہ کئی بہترین کھلاڑی ایسے ہیں جو اس کھیل کو اب الوداع کرچکے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف بے روزگاری ہے۔ عزیر صادق کا کہنا ہے فٹبال کی ترقی کے دعوے تو بہت سے کیے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کوئی نہیں کرتا۔ عزیر صادق کے مطابق ہماری ضرورت پوری ہونی چاہیے ،ہمیں کٹ نہیں ملتی ،ہمیں پریکٹس کے بعد کھانا تو دور کی بات پینے کے لیے جوس تک میسر نہیں۔ یہ کھیل بھرپور توانائی کا ہے اور ہمارے کھلاڑی بے روزگاری کے باعث اتنا سب کچھ برداشت نہیں کرسکتے۔ آج ہمارے کھلاڑیوں کے پاس نہ تو پہننے کے لیے جوتے ہیں اور نہ کھانے کے لیے کوئی ڈھنگ کا کھانا میسر ہے۔ ایسے میں اگر آپ کھلاڑی سے کارکردگی کی توقع رکھیں گے تو پھر اسے پاگل پن ہی کہا جاسکتا ہے۔ عزیرصادق نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح کرکٹ کے کھلاڑیوں کو ہمیشہ توجہ دی جاتی ہے اگر اس میں سے پانچ فیصد بھی توجہ ہمیں دی جائے تو ہم ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ فٹبال پر توجہ دینا ہوگی اور اس کھیل کو پاکستان میں محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ عزیز صادق نے مزید کہاکہ حکومت انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کی دعوت دے اورہمیں بھی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کرنے کا موقع فراہم کرے تاکہ اضطراب کی کیفیت میں مبتلا فٹبالر ذہنی طورپر بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہوسکے۔ فٹبالر کو ڈیلی ویجز پر رکھنا زیب نہیں دیتا،ان فٹبالرز کو مستقل نوکریاں فراہم کی جائیں اور فٹبالرز کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ آخر میں عزیز صادق کاکہنا تھا کہ آج اس مردہ کھیل کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے اور میںحکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس پر توجہ دے تاکہ جوفٹبالر آج مایوسی کی دلدل میں دھنسے جارہے ہیں وہ اس کیفیت سے باہر نکلیں اور اپنے کھیل پر توجہ دے کر ملک کا نام روشن کرسکیں۔