سنو اے ہمسفر میرے۔۔۔

265
چلو ممکن و ناممکن کے قصہ جات کو چھوڑیں
لب ورخسارِِ ہستی کے فسانہ جات کو چھوڑیں
نکل کر خواب گاہوں سے سمندر میں اتر جائیں
چٹانوں سے الجھ جائیں ، فصیلیں پار کر جائیں
جنوں کے مرحلے ہیں یہ ابھی بتلائے دیتی ہوں
تمہاری خرد مندی کو میں یہ سمجھائے دیتی ہوں
یہ جگ ہنسی اڑائے گا ہمیں مجنوں بلائے گا
یہ حربے آزمائے گا ، بہت کانٹے بچھائے گا
مگر!!! اے ہم سفر میرے عہد اپنا نبھانا تم
خلوت ہو یا جلوت ہو ، صعوبت جھیل جانا تم
ہمارے خون کی سرخی افق پر جگمگائے گی
ہماری دشت نوردی حسیں منزل کو پائے گی
پھٹے دامن ، لہو آنچل سے ہستی کو سجائیں گے
لہو آلود ہونٹوں سے زمیں کو چوم جائیں گے
سکونِ قلب کی دولت سے پھر لبریز ہوں گے ہم
تیرے دامن میں القدس سجدہ ریز ہوں گے ہم
حرا زرین
حرا زرین شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی فارغ التحصیل طالبہ ہیں اور عملی صحافت میں قدم رکھ رہی ہیں۔ شاعری اور ادب سے لگاؤ رکھتی ہیں۔