منفی سے مثبت معاشرہ 

297

ہمارے معاشرے میں کتنی تبدیلیاں آ چکی ہیں اس کا اندازہ ہمیں اپنے معاشرے سے ہو رہا ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل مشرقی اقدار کو چھوڑتی جا رہی ہے۔ ان کا لباس، بات چیت، آداب واطوار پستی کی طرف جا رہے ہیں۔ یعنی لباس دیکھیں تو عورت ستر کے تقاضے پورے نہیں کر رہی ہے۔ غیر ملکی، غیر اسلامی ہیت، بڑوں چھوٹوں کا لحاظ ختم ہو رہا ہے۔ صرف اور صرف نفس پرستی اور خود نمائی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ تو انفرادی احوال ہیں اگر اجتماعی معاملات دیکھیں جائیں تو تقریبات خاص طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر ناچ، گانے غیر اسلامی رسوم رائج ہو چکی
ہیں۔ آخر اتنی تیزی سے یہ تبدیلیاں کیوں آرہی ہیں۔ لوگ کہاں سے یہ سب کچھ سیکھ رہے ہیں۔ اس کا سد باب کس طرح ممکن ہے؟۔ میڈیا ایک موثر ذریعہ ہے۔ آج کل کے پروگرام، اشتہارات، منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ غیر اسلامی لباس واطوار کو بڑھا چڑھا کر خوبصورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یوں یہ تبدیلیاں غیر محسوس طریقے سے ہمارے معاشرے کا جزو بنتی جا رہی ہیں۔ کچھ دہائیوں پہلے کی بات ہے اسی میڈیا سے اچھے معیاری پروگرامات نشر ہوتے تھے۔ اب بھی یہ ممکن ہے۔ معیاری ڈرامے اور دیگر پروگرام بنائے جائیں۔ اپنی تہذیب وثقافت کو اجاگر کیا جائے کہ ہماری تہذیب وثقافت دوسری تہذیبوں سے بالا ہے۔ ہمیں اس کو فروغ دینا ہے۔
روبینہ اعجاز
rubinaejaz70@gmail.com
نئی نسل کی تباہی
ہمارے ملک میں الیکٹرونک میڈیا پر دکھائے جانے والے حیا سوز ڈرامے اور بے حیائی پر مبنی مارننگ شوز نئی نسل کو تباہ کر رہے ہیں۔ عورتوں کو جو حیا اور پاک دامنی کا نمونا ہوا کرتی تھیں اب بل بورڈز، سینما گھروں اور بازاروں میں سر عام رسوا کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ خدارا نئی نسل کو میڈیا کے برے اثرات سے بچانے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار کرے اور پیمرا فی الفور ایسے پروگراموں کو بند کرنے کا اعلان کرے۔
ہما عبید، فیڈرل بی ایریا