چلغوزہ : 200 سے 6000 روپے کلو کیسے ہوگیا؟

461
chilgoza چلغوزہ
chilgoza چلغوزہ

ڈرائے فروٹ کے شوقین افراد پوری سردیاں چلغوزے مہنگے ہونے کی دہائی دیتے رہے ہیں ۔ عام ریڑھیوں پر اب چلغوزے خال خال ہی فروخت کے لئے نظر آتے ہیں۔ آخر چلغوزوں کے نایاب ہونے کی وجہ کیا ہے؟
چلغوزے کے درخت بلوچستان کے ضلع ژوب پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں اور یہ پہاڑی سلسلہ آگے افغانستان تک جاتا ہے لہذا یہ درخت افغانستان میں بھی موجود ہیں۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ چلغوزے بیرون ملک برآمد کر دیے جاتے ہیں اور خشک سالی کی وجہ سے ان کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ چلغوزہ کی قیمت میں گزشتہ چند سالوں میں ہی ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک مقامی دکان کے مالک نے اس حوالے سے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ سن 1996 میں چلغوزہ 120 روپے فی کلو ہوتا تھا ۔ سن 2001 میں امریکہ کی افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں بمباری کے باعث چلغوزے کے درخت بڑی تعداد میں جل گئے تھے جس کے بعد چلغوزہ کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا اور یہ قیمت 1000 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی۔ بلوچستان میں خشک سالی کی وجہ سے بھی چلغوزوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور سن 2001 میں اس کی پیداوار صرف 30 فیصد رہ گئی تھی ۔
چین میں چلغوزے بڑی مقدار میں برآمد کیے جاتے ہیں اور چینی عوام کی یہ مرغوب غذا ہے۔اس کے علاوہ عرب ممالک میں بھی چلغوزوں کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ اہل عرب کھڈی کباب کے ساتھ جو چاول پکاتے ہیں اس میں چلغوزہ ملایا جاتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں موجود اچھی کوالٹی کا چلغوزہ 6000 روپے کلو جبکہ بغیر پالش یا کم کوالٹی کا چلغوزہ 3500 سے 4000 روپے کلو میں دستیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام عوام کی قوت خرید میں ایک کلو چلغوزہ بھی نہیں ہے اور بیشتر افراد آدھا پاؤ لے کر ہی لذت کام و دہن کا اہتمام کرتے ہیں۔
اب تو دکانوں پر خصوصی اہتمام و احترام کے ساتھ رکھے چلغوزوں کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بھی کہہ رہے ہوتے ہیں “اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم”.

حرا زرین شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی فارغ التحصیل طالبہ ہیں اور عملی صحافت میں قدم رکھ رہی ہیں۔ شاعری اور ادب سے لگاؤ رکھتی ہیں۔