تعلیمی نظام چند تجاویز

403

عارفہ آفتاب

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچے ہوتے ہیں۔ اور بچوں کے مستقبل کی ضامن ان کی تعلیم اور تربیت ہوتی ہے۔ آج پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں اللہ کے فضل و کرم سے نسلی خلا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں بوڑھے، جوان اور بچے تینوں نسلیں موجود ہیں۔ الحمدللہ جب کہ آج کے ترقی یافتہ معاشرے اپنے خود ساختہ اصولوں اور نظاموں پر عمل کی پاداش میں نسلی خلا میں معلق ہیں اور ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ اپنے انہی ناکام معاشرتی ڈھانچوں کو پاکستان پر مسلط کررہے ہیں (خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے)۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ بھی طے شدہ حقیقت ہے کہ انہوں نے تعلیم و تحقیق کے میدان مسلمانوں سے چھین لیے ہیں اور وہ اسی چھینے ہوئے علمی ورثے کے بل پر آج ترقی یافتہ ہیں، جب کہ اس کے برعکس اسلامی ممالک میں تعلیمی حالت بالخصوص پاکستان میں بہت دگرگوں ہے۔ پاکستان میں نظام تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور نہ ہی تحقیق پر کوئی توجہ ہے۔ ملک میں لازمی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ بہت کم بچے تعلیم حاصل کرپاتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم تک تو بہت ہی کم پہنچ پاتے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہر بچہ پڑھنے کے لیے پیدا نہیں ہوتا مگر کیا ہمارے ہاں ایسا نظام ہے کہ ابتدائی تعلیم کے بعد جو بچے کسی بھی قسم کی ہنرمندانہ صلاحیت رکھتے ہیں انہیں اس کی سہولت بہم پہنچائی جائے۔ مستقبل کے معماروں کو مضبوط اور قابل کار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ایک جیسے تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم دلائی جائے۔ ہنر مند بننے کی صلاحیت کے حامل بچوں کو خاص طریقہ کار کے ذریعے الگ کرلیا جائے۔ ہر بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق تعلیم دی جائے۔ تعلیم (کم از کم میٹرک) مفت فراہم کی جائے۔ ملک کے تمام بچوں کو اسکول تک پہنچایا جائے۔ دین اسلام کی مکمل تعلیم اور عربی زبان لازمی قرار
دی جائے۔ سلیبس اسلامی اقدار اور اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ جدید سائنسی تحقیقات نصاب میں شامل کی جانی چاہئیں۔ لائبریریوں کا فروغ اور بچوں کو کتب بینی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ بچوں کی جسمانی صحت کے لیے تمام مضر صحت اشیا پر پابندی لگا کر انہیں صحت افزا خوراک کا پابند اور عادی بنانا بھی تعلیمی اداروں اور حکومت کے ذمے ہونا چاہیے۔ بچوں کی تفریح اور جسمانی صحت کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں کا اسکول اور گلی محلوں میں انتظام ہونا چاہیے۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک طالب علموں کو حکومت کی طرف سے وظائف دیے جانے چاہئیں۔ مندرجہ بارہ نکاتی پروگرام پر عمل درآمد کرکے ہم اپنے تعلیمی نظام کو قدرے بہتر بنانے کی طرف پیش رفت کرسکتے ہیں۔