پنڈی پیپلزپارٹی کیلئے مقتل ہے،کبھی پھانسی اور کبھی لاش دی جاتی ہے،خورشید شاہ

166
کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

: کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پنڈی پیپلز پارٹی کے لیے مقتل ہے‘ کبھی پھانسی اور کبھی لاش دی جاتی ہے‘ ملک میں جمہوریت برائے نام ہے‘ جواب دیا تو شیخ رشید کی اہمیت بڑھ جائے گی جبکہ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ نیب کوسیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، آغا سراج درانی کے ساتھ بدترین سلوک کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ سید خورشید شاہ نے پیر کو اسپیکر آغا سراج درانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف آغا سراج درانی نہیں بلکہ پوری قوم عتاب میں ہے‘ہم نے بہت کوشش کی مگر ملک میں جمہوریت برائے نام اور طریقہ کار ڈکٹیٹر شپ والا ہے ‘انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں‘ جب ملک کے پارلیمنٹرین محفوظ نہیں تو کون محفوظ ہوگا‘سب سراپا احتجاج ہیں‘ وفاقی وزیر اطلاعات کے بیانات غیر سنجیدہ ہیں‘ ہمارے دور میں ایوان سے اتفاق رائے سے قوانین منظور ہوئے تاہم موجودہ حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی‘ ایم کیوایم پاکستان مجبور ہے کیونکہ وہ حکومت میں ہے اس وقت ملک میں مہنگائی کا عذاب ہے‘ ہمارا احتجاج حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ مہنگائی کم ہو سکے‘ ملک میں جو بھی بچہ پیدا ہورہا ہے‘ وہ پونے2 لاکھ کا مقروض پیدا ہورہا ہے‘ وزیرخزانہ خود آئی ایم ایف کے پاس جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے نصیب میں پنڈی ہے کبھی وہاں سے شہید کرکے لاش بھیج دیتے ہیں‘ کبھی پھانسی دے دی جاتی ہے‘ ہمیں پنڈی بار بار کیوں یاد دلایا جاتا ہے‘ بھارتی جارحیت کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی پوری کوشش کی مگر ہم تقسیم نہیں ہوئے‘یہ سہرا صرف اپوزیشن جماعتوں کو جاتا ہے۔ سید خورشید شاہ نے شیخ رشید کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ان کی بات کا جواب نہیں دوں گا ان کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے اسپیکر آغا سراج درانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیکہا ہے کہ نیب کا کالا قانون ہے جو اپوزیشن کو دباؤ میں لانے اور سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے ساتھ نیب کے بدترین سلوک کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گ ے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک منتخب اسپیکر سندھ اسمبلی کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے‘ وہ انتہائی خطرناک ہے‘ انہیں آٹھ بائی پانچ فٹ کی کھولی میں رکھا گیا ہے‘ بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں‘ کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کے ساتھ بھی ایسا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں سے پیپلزپارٹی کبھی خوف زدہ نہیں ہوئی‘ نیب ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے‘ نیب میں کئی کیسز ایسے بھی ہیں جن میں معمولی انکوائری کی بنیاد پر لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو آپ کو خود بھی تکلیف ہوگیکیونکہ ملک چار پہیوں پر چلتا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کے کیسز راولپنڈی منتقل کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ مقدمات سندھ کے اور ان کی سماعت کہیں اور ہو‘ یہ ملک میں کونسا قانون چل رہا ہے۔