نوازشریف کی طبی رپورٹس میں عمر 4 سال بڑھ گئی، چیف جسٹس

258

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نواز شریف کی پہلی میڈیکل رپورٹ میں ان کی عمر 65 برس ہے اور چند روز بعد ہی کی دوسری رپورٹ میں ان کی عمر 69 برس لکھی گئی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت کے موقع پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور سابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی اور وہ یہ سزا لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں۔ نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی تھی، عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے لیے 5 مختلف میڈیکل بورڈ بنائے گئے ،پہلا میڈیکل بورڈ 17 جنوری کو بنا، پی آئی سی کے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے رپورٹ دی تھی، دوسری میڈیکل رپورٹ جناح اسپتال کے ڈاکٹرز کی آئی، تیسری میڈیکل رپورٹ 30 جنوری 2019 ، چوتھی رپورٹ سروسز اسپتال کی 5 فروری جب کہ پانچویں میڈیکل رپورٹ بھی جناح اسپتال کی طرف سے ہی آئی۔ 15 جنوری کو نواز شریف نے بازو اور سینے میں درد کی شکایت کی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری ہے ، 15 جنوری سے پہلے نواز شریف کی صحت کیسی تھی؟، عدالت درد سے پہلے اور بعد کی رپورٹس کا موازنہ کرے گی۔ میڈیکل رپورٹس دیکھنے کا مقصد نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینا ہے۔