نیوزی لینڈ اور برطانوی وزیراعظم نے مساجد پر حملے کو دہشتگردی قرار دیدیا

196

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے ’دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں‘ اور ان حملوں میں 49 افراد جان سے گئے اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

ملک کی وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ’یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔‘

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنے بیان میں کہا: ’کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردی کے حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔‘

پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں‘۔ ہماری ہمدردی اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ’اسلاموفوبیا‘ کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔‘