عالم اسلام مسجد اقصی میں اسرائیلی جارحیت پرخاموش کیوں؟ ترک وزیرخارجہ

260
قابض اسرائیلی فوجی عورتوں کو مسجد اقصی میں زدوکوب کرتے ہوئے
قابض اسرائیلی فوجی عورتوں کو مسجد اقصی میں زدوکوب کرتے ہوئے

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی مذہبی اشتعال انگیزی ہے اور پوری مسلم امہ کو اس کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

Mevlüt Çavuşoğlu
Mevlüt Çavuşoğlu

ترک وزیر خارجہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی نہتے نمازیوں پر چڑھائی نے صہیونی ریاست کا اصل چہرہ ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اسرائیل کے معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، مسجد اقصی میں اسرائیلی فوجی جوتوں سمیت داخل ہوئے جس کو ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں صرف ترکی نے آواز اٹھائی ہے جبکہ عالم اسلام سے کہیں سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ آخر یہ خاموشی کیوں ہے؟ یہ سب ممالک اسرائیل اور امریکہ سے خوفزدہ ہیں۔ لیکن ترکی القدس اور دیگر قومی ایشوز سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا بلکہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم، القدس کو یہودیانے اور مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی غنڈہ گردی کو بے نقاب کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم امریکا کی سر پرستی کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے بتایا ترکی صدر طیب اردوغان کی قیادت میں تمام خارجی اور داخلی بحرانوں سے نکل آئے گا اور ہم فلسطینیوں کے حقوق اور دنیا بھر کے مظلوم اقوام کے حقوق کی حمایت جاری رکھیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا اسرائیل کے وزیراعظم پر بدعنوانی، رشوت خوری کے مقدمات چل رہے ہیں اور وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے صدر اردوغان اور مقدس مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور بدقسمتی سے پوری دنیا اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔