عافیہ کی رہائی دنیا بھر کے باضمیر لوگوں کا مسئلہ ہے: بیرسٹر نسیم احمد باجوہ

295

کراچی ( اسٹا ف رپورٹر) معروف پاکستانی نژاد برطانوی قانون دان بیرسٹر نسیم احمد باجوہ نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے ان کی والدہ عصمت صدیقی اور ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اس موقع پرمنعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی جس میں مختلف سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی جماعتوں کے رہنمابھی موجود تھے۔ 

بیرسٹر نسیم احمد باجوہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ کی والدہ سے ملاقات نئے حوصلے پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔عافیہ کی رہائی دنیا بھر کے باضمیر لوگوں کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لندن میں بھی لوگ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا پوچھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتح ہمیشہ حق اور انصاف کی ہوتی ہے اس لئے عافیہ کی وطن واپسی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے عافیہ کو واپس لانے کے وعدے کئے تھے میں ان کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں اور موجودہ حکمرانوں کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میری بیٹی کو وطن واپس لانے کا وعدہ کیا ہے۔عافیہ کو اللہ واپس لائے گااور میراایمان ہے کہ عافیہ عافیت کے ساتھ واپس آئے گی ۔ اللہ جن کو حکومت دیتا ہے ان کو حکمت بھی دیتا ہے۔

حکمران اللہ کی عطا کی ہوئی حکمت کو استعمال کریں تو عافیہ کی باعزت وطن واپسی کچھ مشکل نہیں ہے۔ میں نے عافیہ کو انسانیت کے ساتھ پیار اور محبت کرنا سکھایا ہے اور اس کو بہترین دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا۔عافیہ کا 86 سال کی سزا سنانے والے امریکی جج کو عدالت میں معاف کردینا اسی تربیت کا حصہ تھا۔ میرے پاس تمام سیاستدان آچکے ہیں۔ سب جانتے ہیں قاتل ریمنڈ ڈیوس کو کس شان سے چھوڑا گیا تھا۔میں نے قرآن سے یہ سیکھا ہے کہ اللہ آزمائش کے ذریعے کھرے اور کھوٹے کو الگ کردیتا ہے۔ عافیہ کی آزمائش نے قوم کو کھرے اور کھوٹے سیاستدانوں کی پہچان کرادی ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ آج ہم سب صبح نو امید کے ساتھی یہاں جمع ہوئے ہیں۔ میں صرف یہ کہوں گی خدارا اب سیاست میں جھوٹ نہ بولیں ، دھوکہ مت دیں۔ ہمارے ساتھ مزید مذاق نہ کیا جائے۔ عافیہ کی رہائی جنوری میں بھی ممکن تھی، عافیہ پاکستانی قوم کیلئے نئے سال کا تحفہ بن سکتی تھی۔ پہلے بھی عافیہ کیلئے ایک ڈیل ہورہی تھی جس میں بیرسٹر نسیم احمد باجوہ اورمریم ایوون ریڈلے کا اہم کردار تھا۔ میں سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں اورآپ سب کیلئے اجر عظیم کی دعا کرتی ہوں۔اگر مجھ سے صدمہ کی حالت میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں سب سے معافی مانگتی ہوں ۔اور درخواست کرتی ہوں کہ میری غلطی کی سزا قوم کی بیٹی عافیہ کو نہ دی جائے۔

قرآن ڈاٹ کام سے وابستہ شفیق اجمل نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے نے قوم کو متحد کیا ہے۔ان کی وطن واپسی سے قوم کا مورال بلند ہوگا۔یہاں مختلف جماعتوں سے وابستہ رہنما موجود ہیں۔ ہم سب کو چاہئے کہ عافیہ کی فیملی کے درد کو محسوس کریں اور انسانیت کے حوالے سے عافیہ صدیقی کی بات کریں۔ اس معاملے میں حکومت ، اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہونا چاہئے۔

ہیومین رائٹس نیٹ ورک کراچی کے صدر انتخاب عالم سوری نے کہا کہ 16 مارچ کی امید پوری قوم کی امید ہے۔ عافیہ کا ز کیلئے ہم متحد ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی فیملی نے قوم کو سکھایا ہے کہ اصول اور حق کیلئے کس طرح جدوجہد کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ نے مغرب کے دہرے معیار کا پردہ بھی چاک کیا ہے۔ پاکستانی عورت کا اصل چہرہ پاکستان کے اعلی تعلیم یافتہ گھرانے عصمت صدیقی، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا چہرہ ہے۔ 

جماعت اسلامی کراچی کی خاتون رہنما شگفتہ انیس نے کہا کہ کریڈٹ چاہے جو بھی لے عافیہ کو واپس لانا چاہئے۔ اگر کریڈٹ کیلئے رکاوٹ ڈالی گئی تو ہم عورتیں قوم کے پاس جائیں گی۔ 

وکیل سپریم کورٹ ایڈوکیٹ عبدالوحید نے کہا کہ عافیہ کی قربانیاں پوشیدہ نہیں ہیں۔ 16 مارچ کی تاریخ قوم کی امید کا سمبل بن گئی ہے۔

جوائننگ ہینڈز کی صدر سبین میمن نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کا معاملہ خالص انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ عافیہ قوم کی بیٹی ہے اور بیٹی ہونا فخر کی بات ہے۔ عافیہ کا امریکی قید میں 16سال گذرنا ہماری ناکامی ہے۔ عافیہ کی باعزت وطن واپسی کی خاطر قوم کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے۔

مشاورتی اجلاس کے شرکاء نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ سے یکجہتی کا اظہار کیا اور وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ قوم کو ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔