پی پی جیل بھرو تحریک شروع کرے تین صوبوں میں ان کیلئے ایک ہی بیرک کافی ہے،فواد چوہدری

236
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اسپورٹس اینڈ کلچر فیسٹیول سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اسپورٹس اینڈ کلچر فیسٹیول سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(آن لائن+صباح نیوز +اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے پاکستا ن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کی جیل بھرو تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 صوبوں پنجاب،کے پی کے اور بلوچستان میں ان کے لیے ایک ہی بیرک کافی ہے۔بدھ کوبلاول زرداری کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ بلاول کی جیل بھرو تحریک کا خیر مقدم کرتے ہیں،وہ لاہورسے تحریک چلائیں،ان سب کے لیے ایک ہی بیرک کافی ہوگی۔ فواد چودھری نے کہا کہ نواز شریف کو دل کی تکلیف ہے، نواز شریف کو سندھ میں علاج کرانے کی پیشکش مذاق ہے،سندھ میں علاج کی پیش کش نہ کی جائے، سندھ کے اسپتالوں سے بہتر ہے کہ وہ اپنا علاج ہی نہ کرائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ارشد خان چیئرمین یا ایم ڈی پی ٹی وی کے امیدوار نہیں، انہوں نے درخواست نہیں دی ،نیا ایم ڈی پی ٹی وی2 ہفتے میں تعینات کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں، سول ملٹری تعلقات مثالی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ ستمبر تک ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کردیں گے اور لسٹ سے نکل جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں،افغانستان میں اتفاق رائے سے حکومت بننے جارہی ہے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے بدھ کی شام وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کے ساتھ اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو فوجی عدالتوں کے معاملے پر اپوزیشن سے رابطوں کیذمے داری دی ہے جب کہ حکومت پاکستان نے پاکستانی میڈیا کی بھارتی انتخابات کی کوریج کے لیے بھارتی ہائی کمیشن کو خط لکھنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے بدھ کو پی این سی اے میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا یوتھ ونگ کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے نوجوانوں نے عمران خان کو کامیاب کر کے21ویں صدی کے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی مقبولیت کو دیکھ کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سر جوڑ لیے ہیں اور اندھیروں میں عمران خان کے خلاف سازشیں شروع کر دی ہیں، لمبے عرصے اقتدار پر قابض رہنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ادوار میں کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے اور ریاست کو یرغمال بنائے رکھا،عمران خان کی نواز شریف اور آصف علی زرداری سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، تحریک انصاف نے قوم کو تقسیم کرنے والی سیاست کاخاتمہ کر دیا، اب چاروں صوبے قومی دھارے میں شامل ہیں۔