مجالس شوریٰ واجتماعات (۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۵ء) (باب چہارم)

137

محمود عالم صدیقی

انہوں نے حاضرین کی توجہ اس طرف دلائی کہ ہم نے اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنے اور اس کے نظم کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کر دکھائیں جس طرح ہمیں دنیا کے موجودہ بگاڑ پر تنقید کرنے کا حق ہے۔ اسی طرح دنیا کو بھی یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں‘ کس طرح جمع ہوتے ہیں‘ ایک دوسرے سے کیا برتاؤ ہے ہمارے اٹھنے بیٹھنے‘ کھانے پینے کا سلیقہ کیسا ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے ان اجتماعات کے دوران‘ نظم و ضبط‘ باقاعدگی‘ سنجیدگی و وقار‘ صفائی و طہارت اور حسن اخلاق اور خوش سلیقگی کا ایسا مظاہرہ ہو‘ جو دنیا میں نمونہ بن سکے۔
ان اجتماعات کی دوسری خصوصیت یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہاں دیانت و امانت بالکل ایک محسوس اور مشہود شکل میں نظر آنی چاہیے‘ یعنی کسی شخص کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جس کا مال اور سامان جہاں رکھا ہو وہاں بغیر کسی نگراں اور محافظ اور قفل اور کنجی کے محفوظ پڑا رہے۔
تیسری بات جماعت کے منصب امارت کے بارے میں ہے۔ حسب وعدہ میں اس اجتماع میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر آپ کو مجھ سے اہل تر آدمی امارت کے منصب کے لیے مل گیا ہو تو میں یہ جگہ خالی کرنے کے لیے تیار ہوں‘ آپ اس کو امیر منتخب کرلیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ تین برسوں کے دوران کسی کو مجھ سے کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو‘ یا کسی کے حق کی ادائیگی یا کسی کے ساتھ انصاف کرنے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو‘ یا میری کوئی غلطی کسی کے علم میں آئی ہو تو بے تکلف اس کا اظہار کرے‘ خواہ میرے سامنے خواہ پوری جماعت کے سامنے۔ نہ تو اپنی کسی غلطی یا قصور کے اعتراف میں‘ نہ اپنی اصلاح میں یا کسی جائز شکایت کی تلافی میں کوئی تامل ہوگا۔ اگر کوئی شکایت کسی غلط فہمی پر مبنی ہوگی تو میں اسے دور کردوں گا۔
اس افتتاحی تقریر کے بعد‘ قیم جماعت نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے کہا کہ ہماری اس دعوت اور طریق کار کا یہ فطری تقاضا ہے کہ اس میں دکھاوے یا نمائش یا مبالغے کوئی جھلک نہ ہو‘ کیوں کہ یہ چیزیں ہی عمل صالح کو ضائع کردیتی ہیں۔
ارکان جماعت کو اور ہمدردوں کو وقتاً فوقتاً تحریک کی رفتار سے باخبر رکھنا ضروری ہے‘ تاکہ ایک عام جمود‘ بددلی اور مایوسی طاری نہ ہوجائے‘ اور وہ ایسا محسوس نہ کرنے لگیں کہ شاید جماعت میں کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے۔ اجتماعات کے مواقع پر ارکان اور ہمدردان جماعت کو کام کی رفتار اور کار گزاری سے مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے‘ بلکہ یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ مرکز سے دور رہنے والے رفقاء کو ہمارے کام پر تنقید کرنے اور ہمیں ان کے نیک اور مفید مشوروں سے مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ جماعت کی تشکیل کے وقت ۱۹۴۱ء میں شرکاء کی تعداد صرف ۷۵ تھی‘ جو تین سال میں بڑھ کر ساڑھے سات سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ شعبہ تنظیم کے قیام کے وقت مقامی جماعتوں کی تعداد ۳۷ تھی‘ ان میں سے ۶ جماعتیں کارکردگی کے لحاظ سے صفر تھیں‘ لہٰذا انہیں ختم کردینا پڑا۔ مقامی جماعتوں اور ارکان کی جانچ پڑتال کے بعد اور ایک سال کی مسلسل کانٹ چھانٹ کے بعد اب ارکان کی تعداد ساڑھے چار سو سے بھی کم رہ گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مقامی جماعتوں کی تعداد ۳۷ سے بڑھ کر ۵۳ ہوگئی ہے۔
جماعت کا حلقہ اثر
پنجاب کے گوشے گوشے میں تحریک کی پکار پہنچ چکی ہے۔ حیدرآباد (دکن) اور مدراس کے بیش تر علاقوں اور یوپی اور بہار کے متعدد علاقوں میں بھی آواز حق پہنچ چکی ہے۔ اڑیسہ‘ وسط ہند، آسام اور بلوچستان میں نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے۔ بمبئی‘ سندھ اور صوبہ سرحد اور بنگال میں کچھ لٹریچر جانا شروع ہوا ہے اور کچھ کام بھی ہوا ہے۔ دعوت کا اثر جدید تعلیم یافتہ طبقے کے سلیم الطبع لوگوں پر تیزی سے ہوا ہے اور وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ غیرمسلموں نے بھی دعوت کا اثر قبول کیا ہے اور اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتوں نے بھی ہماری تحریک کا اثر لیا ہے اور چاہے بظاہر ہی ہو‘ اس مقصد اور نصب العین کو اختیار کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ پانچ چھ برس پہلے کوئی بھی اسلامی نظام حیات اور اقامت دین کے الفاظ زبان پر نہیں لاسکتا تھا اور اپنی زبان پر لاکر سیاسی حلقوں میں مضحکہ بنے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ راہ کی رکاوٹوں میں کارکنوں کی کمزوریاں‘ ناتجربہ کاری‘ مردان کار اور صحیح قسم کے کارکنوں کی قلت‘ تربیت گاہ اور کارکنوں کی تربیت کا انتظام نہ ہونا‘ جماعت کے تقریباً ۹۸ فیصد ارکان کا غریب اور متوسط طبقے سے تعلق ہونا اور عالمی جنگ کی پیدا کردہ مشکلات ہیں۔ اس کے علاوہ مالی وسائل کی کمی اور علماء کے طبقے کا معاندانہ طرز عمل بھی ہماری راہ کی بڑی رکاوٹ ہے۔ شخصیت پرستی کا مرض عوام میں جڑ پکڑچکا ہے‘ اور حق پرستی کی روح کو بیدار کرنا ایک انتہائی کٹھن کام ہوکر رہ گیا ہے۔
قافلہ حق میں شرکت کرنے اور دعوت کو قبول کرکے مسافران راہ حق نے شدید مصائب اور مسائل کا سامنا کیا اور اب بھی کررہے ہیں کیوں کہ اللہ کے دین کو اپنی زندگی اور معاشرے پر نافذ کرنا جہاد عظیم ہے اور ہمارے رفقاء جان و دل سے اس میں دامے‘ درمے اور سخنے شریک ہیں۔
دوسری زبانوں میں دعوت کی نشر واشاعت
ان تمام علاقوں میں جہاں اردو بولی اور سمجھی نہیں جاتی اور دوسرے ملکوں کی زبانوں میں تحریک اسلامی کی کتابوں کو منتقل کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ جالندھر میں مولانا مسعود عالمؒ ندوی کی قیادت اور رہنمائی میں دارالعروبہ کے نام سے عربی ادارے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ مولانا اپنی خرابی صحت اور دوسری مشکلات کے باوجود اپنے وطن (بہار) سے ہجرت فرماکر اپنا پورا وقت‘ توجہ اور محنت اسی کام پر صرف کررہے ہیں۔ ترکی لٹریچر کا کام برادر عزیز اعظم ہاشمی مہاجر ترکستانی سرانجام دے رہے ہیں۔ رسالہ دینیات اور خطبات کا ترجمہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ مدراس کی بڑی زبان ملیالم‘ تامل‘ گجراتی اور ہندی ترجمے کے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ انگریزی میں بھی ترجمے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اردو زبان میں جماعت کا نیا لٹریچر بھی زیر طبع ہے۔ اور کئی کتابیں جلد ہی چھپ کر آجائیں گی۔
اس کے بعد قیم جماعت نے درس گاہ دارالاسلام کے قیام میں تاخیر کی وجوہ بیان کیں۔ ۱۹۴۱ء سے اب تک آمدنی اور مصارف کے گوشوارے پیش کیے‘ جن کے مطابق یکم؍ ستمبر ۱۹۴۱ء سے ۱۶؍اپریل ۱۹۴۵ء تک کل آمدنی تہتر ہزار ایک سو چورانوے روپے‘ آٹھ آنے‘ تین پائی اور کل مصارف اڑسٹھ ہزار تین سو بارہ روپے‘ بارہ آنے‘ تین پائی ہوئے۔ بقایا نقد موجود رقم چار ہزار‘ آٹھ سو‘ اکیاسی روپے بارہ آنے تھے۔ اس کے علاوہ مکتبہ جماعت میں تقریباً پچیس ہزار روپے کی کتابیں موجودتھیں۔
(جاری ہے)