وہی رفتارِ بے ڈھنگی

144

شبیر ابن عادل

سوچیے کہ اگر یہ سال آپ کی زندگی کا آخری سال ہو تو آپ کیا کرنا چاہیں گے؟
کیا آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا چاہیں گے؟ کیا آپ اپنے خوابوں کو اپنے ساتھ ہی موت کے گھاٹ اتارنا چاہیں گے؟ آپ کو پتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ خواب کہاں پائے جاتے ہیں؟
قبرستان میں۔۔۔!
کیوں کہ لوگ اپنے خوابوں اور خیالوں کو اپنے اندر ہی لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہاں خوابوں سے مراد لوگ مادی اشیاء (یعنی ڈھیر ساری دولت، جائداد، کار، بنگلہ، وغیرہ) لیتے ہیں۔ یہ خوابوں کی محدود تعریف ہے۔ کیوں کہ خواہشیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور لوگ اپنے دلوں میں خواب سجائے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اصل خواب تو آخرت کے خواب یعنی آخرت کی تیاری ہے۔ اس کی پلاننگ اور منصوبہ بندی ہے۔ ہمارا تو حال یہ ہے کہ خود کو معاشرے کے سپرد کردیا ہے اور وہی کرتے ہیں، جس کا معاشرے میں ٹرینڈ ہوتا ہے۔ یعنی اپنے بچوں کی تعلیم، ان کی ٹیوشن، پھر ان کی اعلیٰ تعلیم اور ان کے لیے بہترین ملازمت کا حصول۔ لو جی! ہوگئے کامیاب۔ یعنی اگر زندگی کی مدت ساٹھ سال فرض کرلی جائے تو حصول علم میں نصف زندگی صرف ہوگئی اور نصف ملازمت یا کاروبار کرتے کرتے۔ اگر درمیان میں بلاوا آگیا تو اوپر چلے گئے، ورنہ ساٹھ سال کے بعد کسی بھی وقت، جب بھی عمر تمام ہوئی، انتقال ہوگیا۔ اس رجحان کے ہوتے ہوئے اگر کسی کو یہ علم ہوجائے کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سال ہے تو وہ یا تو اس امر پر یقین ہی نہیں کرے گا اور کر بھی لے تو وہ depress ہوجائے گا اور ایسے کاموں میں لگ جائے گا، جن کا کوئی حاصل نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اکثریت کو علم ہی نہیں کہ وہ دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ اور نہ کبھی اُس نے یہ جاننے کی کوشش کی۔ اگر کسی نے بتایا بھی کہ اصل زندگی آخرت کی ہے اور اس کی تیاری ضروری ہے تو اس پر ملاّ کی پھبتی کس دی اور یہ تصور کرکے خود کو اطمینا ن دلالیا کہ یہ مولوی تو یوں ہی ڈراتے رہتے ہیں۔
ہمارے وجود کے دوحصے ہیں، ایک ہمارا جسم اور دوسری ہماری روح۔ ہمیں تو اپنے جسم کی بہتری کا بھی خیال نہیں، بازار کے فضول کھانے کھا کر اپنی صحت برباد کرنا، راتوں کو جاگنا، دیگر خرافات میں لگے رہنا۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اپنے جسم کا تو تھوڑا بہت خیال کرلیتے ہیں۔ مگر روح اس کے بارے میں تو نوے فی صد لوگ غور ہی نہیں کرتے۔ صرف اتنا تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ جب کسی کی موت آتی ہے تو روح جسم کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ مگر اس کی غذا کیا ہے؟ اس کو کن باتوں سے تقویت اور بالیدگی ملتی ہے۔ اور اس حوالے سے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اگر کسی طرح ان باتوں کا علم ہوبھی جائے تو اپنے خاص Life Style کی وجہ سے عملی طور پرکچھ نہیں کرتے۔ زندگی کو زندگی کی طرح عقل مند لوگ ہی گزارتے ہیں، جب زندگی کے بارے میں بنیادی حقائق کا علم ہوتا ہے تو وہ اس حوالے سے سوال جواب نہیں کرتے۔ بلکہ کمرکس کر میدانِ عمل میں نکل پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی زیادہ تر افراد کو (بچپن یا جوانی یا عمر کے کسی بھی حصے میں) گھر کے باہر ہی معلوم ہوتا ہے۔ بیش تر والدین اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں شعور اورآگہی کبھی اساتذہ اور کبھی دینی جماعتوں اور تحریکوں سے ملتی ہے۔
خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جسم کی غذا زمین سے حاصل ہوتی ہے اور روح کی غذا آسمان سے۔ ہمارے ربّ نے ان دونوں چیزوں کا اہتمام فرمایا ہے۔ آدم علیہ السلام اور بی بی حوا ؑ کے زمین پر اتارے جانے سے سیکڑوں برس قبل اللہ تعالیٰ نے زمین پر ان کی خوراک اور دیگر ضروریا ت کا بندوبست کردیا تھا۔ جبکہ روح کی غذا کے لیے پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، خود آدمؑ پہلے پیغمبر تھے۔ ان کے ساتھ ہی آسمانی کتب بھی نازل کی جاتی رہیں۔ ان سب میں بنیادی حقائق (یعنی اللہ تعالیٰ ایک ہے، اسی کی بندگی کرنا چاہیے) کے علاوہ زندگی گزارنے کے سنہری اصول درج تھے۔ سیدنا محمد مصطفی ؐ آخری نبی اور رسول تھے، انہیں قرآن پاک جیسی عظیم کتاب عطا کی گئی۔ جس کی حفاظت کا ذمہ خو د اللہ پاک نے لیا ہے اور وہ اب تک حرف بحرف محفوظ ہے۔ اس کا عملی نمونہ سرکار ؐ کی ذات تھی، یوں قرآن وسنت دو بنیادی ماخذ ہیں۔ جن کو مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہوتا ہے اور بہترین زندگی گزارتا ہے۔
قرآن وسنت میں صرف مذہبی احکامات نہیں ہیں، بلکہ یہ فرد کو معاشرے کا کارآمد حصہ بناتے ہیں اور زندگی روشن ہوجاتی ہے۔ حصولِ دولت ممنوع نہیں، بلکہ لالچ منع ہے اور صرف دنیا ہی کو اپنا بنیادی مقصد بنالینا ناپسندیدہ ہے۔ مادہ پرستی اور لالچ انسان کو اس کے مرتبہ سے گرادیتی ہے اور یوں پورا معاشرہ مفادپرست بن کررہ جاتا ہے۔ زندگی کو صحیح معنوں میں گزارا جائے، جس طرح ہمارا ربّ چاہتا ہے تو چاہے وہ امیر بن جائے یا غریب۔ مگر بہت خوش رہے گا اور سکون سے اس کی زندگی گزرے گی۔ پھر چاہے وہ دنیا میں ستر اسی سال رہے یا اٹھارہ انیس سال یا اگر وہ اس سال ہی مرجائے، اسے کوئی فکر نہیں ہوگی۔ اس کے قلب پر اطمینان اور سکون ہوگا۔ اپنے خالق کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں گے تو دنیا میں بھی مزے سے رہیں گے اور آخرت میں بھی۔ آئیے، ایسی خوبصورت زندگی گزارتے ہیں۔