ایک سچ، ایک حقیقت! 

151

عمارہ اکرم

انسان کے لفظ سے تو سب واقف ہیں مگر اس کی حقیقت تک شاید آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ انسان ہونے کے اہل صرف چند لوگ ہی نظر آتے ہیں، جیسے ضمیر جعفری مرحوم نے کہا تھا کہ!
انساں ڈھونڈے لیکن پائے لرزاں ترساں سائے
ڈھلمل ڈھلمل سے دل دیکھے ڈانوا ڈول ضمیر!
انسان قدم قدم پر بے حسی کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے، اسی وجہ سے وہ انسانیت کے معیار سے گرتا چلا جارہا ہے۔ جانور بے شک جانور ہیں مگر وہ بے حس انسان کی طرح نہیں ہوتے۔ میری اس تمہید سے آپ شاید شش و پنج میں پڑ گئے ہوں گے کہ آخر یہ سب لکھنے کا مقصد کیا ہے اور آج انسان موضوع تحریر کیوں بنا ہے؟ تو عرض ہے کہ آج ایک مشاہدے نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ مشاہدہ مجھے اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے پرندوں سے ہوا۔ میں یونہی اپنے گھر کے صحن میں پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھی تھی اور قدرت کی نعمتوں اور تخلیقات کو دیکھ دیکھ کر اس کی بڑائی اور بزرگی پر حیرت زدہ تھی کہ وہ ذات کتنی رحیم و کریم ہے لیکن اس کی بنائی ہوئی مخلوقات کے رویوں میں کتنا فرق ہے۔ بیٹھے بیٹھے میری نظر اپنے پالتو کبوتروں پر پڑی جو دنیا مافیہا سے بے خبر صحن میں ڈالے گئے باجرے اور سرسوں کے دانوں کو چگنے میں مصروف تھے، مختلف رنگ و نسل کے ہونے کے باوجود سب اکٹھے دانہ چگ رہے تھے۔ مجھے کبوتروں کا آپس میں اتفاق دیکھ کر بچپن میں پڑھی ایک کہانی یاد آگئی جب بہت سے کبوتر ایک شکاری کے جال میں پھنس گئے تھے، سب پریشان تھے کہ دور سے شکاری آتا ہوا نظر آیا، ایک بوڑھے کبوتر کی تجویز پر سب نے مل کر زور لگایا اور جال اڑا کرلے گئے، یہ کہانی جو بچوں کو اتفاق میں برکت کے لیے پڑھائی جاتی تھی، آج بھی اسی طرح تروتازہ ہے۔ لیکن آج ان کبوتروں کو دیکھ کر مجھے انسان کے تعصبانہ رویے اور انا پرستی پر سخت ندامت ہوئی اور دکھ بھی ہوا کہ انسان جسے تمام مخلوقات پر برتری حاصل ہے آج وہ جانوروں سے بھی کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔ ابھی میں انسان اور جانور کے اصل فرق پر غور ہی کررہی تھی کہ ایک چڑیا جو دیوار پر بیٹھی ہوئی تھی اڑ کر نیچے صحن میں آگئی اور دانہ چگنے لگی، لیکن و ہ بار بار رک کر ادھر ادھر بھی دیکھ لیتی تھی اس کی بے چینی بتارہی تھی کہ وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں کبوتر اسے دانہ چگتے ہوئے دیکھ کر برا نہ مان جائیں اور نقصان نہ پہنچائیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ میں سوچنے لگی کہ اگر انسان کا معاملہ ہوتا تو پہلے تو وہ کسی کو اپنے ساتھ کھانے کا موقع ہی نہ دیتا اور بے مروتی کا اظہار کرتا لیکن اگر کوئی بھوک کی شدت سے تنگ آکر بیٹھ ہی جاتا تو پہلے کی کوشش ہوتی کہ جلدی سے اچھا کھانا وہ اٹھالے۔ پھر میں دیکھا کہ وہ چڑیا اڑی اور نظروں سے اوجھل ہوگئی اور تھوڑی ہی دیر بعد اپنی چند سہیلیوں کو ساتھ لے آئی، جن کو اس نے جاکر بتایا ہوگا کہ وہاں ہمارے کھانے کا بندوبست ہے، آؤ مل کر کھاتے ہیں۔
اب ذرا غور کریں کہ اگر یہاں کوئی انسان ہوتا تو وہ اکیلا ہی اس مال مفت پر ہاتھ صاف کرتا اور کسی کو خبر نہ ہونے دیتا، اگر کسی کو پتا چل بھی جاتا تو اسے کھانے کے قریب پھٹکنے کا موقع نہ دیتا یا پھر اس کی کوشش ہوتی کہ اس کے حصے میں زیادہ کھانا آئے۔ اس کا عملی مظاہرہ اکثر شادی بیاہ کی تقریبات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں کھانا لگنے کے ساتھ ہی لوگ کھانے پر ایسے جھپٹتے ہیں جیسے برسوں کے بھوکے ہوں اور افسوس اور شرم کا مقام یہ ہے کہ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اچھی بوٹیاں وہ جلدی سے چن کر اپنی پلیٹ میں ڈال لے، اس دوران اشرف المخلوقات ہونے کا عزت و وقار کہیں گم ہوجاتا ہے۔ خیر آگے سنیے! جب وہ چڑیاں اپنی بھوک کے مطابق دانہ چک چکیں تواڑان بھر کر پھر کہیں غائب ہوگئیں، تھوڑی دیر بعد جب وہ پھر واپس آئیں تو چڑیوں کا ایک پورا غول گھر کے صحن میں آن پہنچا، ان کی چہچہاہٹ بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہیں۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یہ ننھے منے پرندے وفا اور محبت کی کیسی کیسی مثالیں قائم کرتے ہیں مگر انسان ان سے بھی کچھ سیکھنے کو تیار نہیں، جانور وفا اور محبت کے اس فرض کو نبھانے میں ہمیشہ انسان کو مات دے دیتے ہیں۔ یہ چڑیاں کچھ دیر تک دانہ دنکا چنتی رہیں، سب نے سیر ہوکر کھایا اور اڑگئیں، کبوتروں نے اپنے رویے سے ذرا سا بھی احساس نہیں ہونے دیا کہ یہ چھوٹی چھوٹی چڑیاں ان کے لیے ڈالا گیا دانہ کیوں چن رہی ہیں۔ وہ چڑیاں تو اڑ گئیں مگر میرے ذہن میں ہمیشہ کے لیے یہ سوال چھوڑ گئیں کہ وہ انسان ہوتیں تو کیا کرتیں۔ میں سوچنے لگی کہ انسان سب کچھ سمیٹ لینے کے لیے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتا اور اپنے بہن بھائیوں کو کیسا کیسا دھوکا اور فریب دیتا ہے، حتیٰ کہ کسی کو نقصان پہنچانے اور اس کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا! افسوس صد افسوس!!