مزدوروں کا فنڈسڑکوں کی تعمیر اورترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جارہا ہے،پاکستان ورکرز فیڈریشن

139

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) حکومت انٹر نیشنل لیبر قوانین کے توثیق شدہ لیبر قوانین پر عمل درآمد کرے، تاکہ مزدوروں کی کم سے کم اجرت ،صحت و سلامتی سمیت دیگر مسائل میں کمی آسکے۔ دیگر مزدوروں کی طرح صحافی بھی قلم کامزدور ہیں ان کے مسائل بھی مشترکہ ہیں، پاکستان ورکرز فیڈریشن کا بنیادی کام مزدوروں کو لیبر قوانین سے متعلق آگاہی دینا ہے اور یقیناًایسے تربیتی پروگراموں سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے ہم مثبت نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں مزدور غیر رسمی شعبوں یعنی گھریلو ملازمت، تعمیرات اور زرعی شعبوں میں کام کر رہے ہیں جن کے حقوق کی تحفظ کیلئے نہ تو قانون سازی کی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں حکومت نے کوئی توجہ دی جس سے ان کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہا رپاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی کوارڈینٹر شوکت علی انجم نے جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں ’’سماجی تحفظ اور اسکی موجودہ صورتحال‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ علا قائی میڈیا ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ سے پاکستان ورکرز فیڈریشن کہ پر وگرام �آفیسر وماسٹر ٹر ینر اسد محمود اور دیگر نے خطاب کیا ،

اس ورکشاپ میں جسارت لیبر صفحہ کے انچارج قاضی سراج،عنیبہ وقار،ضمیر عباس،منیر عقیل انصاری عدیلہ خان،شازیہ ارشد،ضیاء قریشی سمیت مختلف الیکڑونک اورپرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحا فیوں نے شرکت کی۔

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی کوارڈینٹر شوکت علی انجم نے مزید کہا کہ صوبائی لیبر قوانین پر نظرثانی اورغیر رسمی شعبوں کے مزدوروں کے حقوق کی تحفظ کیلئے پاکستان ورکرز فیڈریشن نے اپنی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ مزدوروں کو یکساں حقوق مل سکیں،ان کو کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ای او بی آئی کا فنڈسڑکوں کی تعمیر اورترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جارہا ہے جس سے مزدور متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان ورکرز فیڈریشن کہ پر وگرام �آفیسر وماسٹر ٹر ینر اسد محمود نے میڈیا ورکشاپ میں موجودہ صنعتی تعلقات کے قوانین ، اٹھارویں ترمیم کے بعد لیبر قوانین کی موجودہ صورتحال، لیبر قوانین پر عملدرآمد ،سوشل سیکورٹی کے اداروں سمیت دیگر مزدوروں کے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی ،ان کا کہنا تھا کہ سماجی تحفظ کے اداروں میں سیا سی مداخلت کی وجہ سے فعال کام نہیں کر رہے ہیں اور بدعنوانی ،بد انتظامی کا شکار ہیں،

اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالہ کیاگیا جس کی وجہ سے ادارں میں گو مگوں کی صورتحال ہیں، موجودہ دورے حکومت میں بھی اداروں میں یونین کی عدم مو جود گی کی وجہ سے بہت سارے مزدور دائرہ کا ر سے باہر ہیں اور آج بھی زیادہ تر مزدوراپنی پنشن اور دیگر مراعات سے محروم ہیں۔