پاکستان ورکرز فیڈریشن کے زیر اہتمام میڈیا ورکشاپ کا انعقاد،

186

کراچی (رپو رٹ:منیر عقیل انصاری)مزدور وں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے صحافی برادری پاکستان ورکرز فیڈریشن کا ہاتھ مضبوط کریں۔ سرمایہ دار مزدوروں کا استحصال کر رہے ہیں،اسمبلی میں مزدوروں کا کوئی حقیقی نمائندہ نہیں ہے۔

لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہو نے کی وجہ سے آج کا مزدور اپنی پنشن اور دیگر مراعات سے محروم ہیں، مزدوروں کو انکے حقوق دلوانے میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ صحافیوں اور مزدوروں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ملک گیر مزدور تنظیم پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی کوارڈینٹر شوکت علی انجم نے بدھ کے روز مقامی ہوٹل میں ’’سماجی تحفظ اور انکی موجودہ صورتحال‘‘ کے موضوع پر منعقدہ علا قائی میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ورکشاپ سے پاکستان ورکرز فیڈریشن کہ پر وگرام �آفیسر وماسٹر ٹر ینر اسد محمود اورسندھ ریجن کے جنرل سیکر یٹری وقار میمن نے خطاب کیا ،اس ورکشاپ میں سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری،سندھ سوشل سیکو رٹی کی رہنما رفعت رضی،پاکستان گمبل ا ینڈ کیمیکل کے جنر ل سیکر یٹری ا ما م الدین،جسارت لیبر صفحہ کے انچارج قاضی سراج،لیبر نیو ز انٹر نیشنل کے چیف ایدیٹر منور ملک،شیما صدیقی،منیر عقیل انصاری،سرفراز عالم،محمد سعید خان سمیت دیگر صحا فیوں نے شرکت کی۔

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی کوارڈینٹر شوکت علی انجم نے مزید کہا کہ مزدوروں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور انکے حقوق کے تحفظ کے لئے میڈیا کو اپنا کردار ادا کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے، لیبر قوانین میں سقم موجود ہے،جس سے مزدوروں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ مزدوروں کے حوالے سے متعدد متوازی قوانین بھی مزدوروں کے حقوق سلب کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسمبلی میں مزدوروں کا کوئی حقیقی نمائندہ نہیں ہے۔سرمایہ دار مزدوروں کا استحصال کر رہے ہیں،

پاکستان ورکرز فیڈریشن کہ پر وگرام �آفیسر وماسٹر ٹر ینر اسد محمود نے میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ میڈیا مزدوروں کو درپیش مسائل انجمن سازی، اجتماعی سوداکاری ، چائلڈ لیبر، سماجی تحفظ، صحت مند حالات کار، صنعتی حادثات سے تحفظ،لیبر قوانین سے آگاہی اور عملدرآمد،عالمی ادارہ محنت کے کنونشنز پر عملدرآمد اورانسانی حقوق کی پامالی کے روک تھام کے لئے پاکستان ورکرز فیڈریشن اور محنت کش طبقہ سے تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے اداروں میں سیا سی مداخلت کی وجہ سے فعال کام نہیں کر رہے ہیں اور بدعنوانی ،بد انتظامی کا شکار ہیں،اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالہ کیاگیا جس کی وجہ سے ادارں میں گو مگوں کی صورتحال ہیں،

موجودہ دورے حکومت میں بھی اداروں میں یونین کی عدم مو جود گی کی وجہ سے بہت سارے مزدور دائرہ کا ر سے باہر ہیں اور آج بھی زیادہ تر مزدوراپنی پنشن اور دیگر مراعات سے محروم ہیں،

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سندھ ریجن کے جنرل سیکر یٹری وقار میمن نے ورکشاپ میں شریک تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ اداکیا۔