قصرناز میں اموات کا ذمے دار ہوٹل عملہ قرار،9 ملازمین گرفتار

262

انیس روز قبل کراچی میں کوئٹہ کے بدقسمت خاندان کے 5بچوں سمیت 6افراد کی پراسرار ہلاکت کی گھتی سلجھ گئی۔

غفلت برتنے پر قصر ناز سے حراست میں لیے گئے ملزمان ندیم اختر شیخ ولد غلام حسین شیخ، محرم علی بروہی ولد غلام رسول، نثار اعوان ولد عبدالشکور،سجاد حسین ولد غلام حسین،پرویز بھٹی ولد ہزارہ مسیح (خاکروب)،ذاکر حسین ولد ارتضٰی حسین،سکندر حیات ولد پیر محمد،صنوبر ولد حبیب خان،عبدالحمید ولد حاجی اقبال کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔

قصرناز میں پائے جانے والے ٹوکسس میٹریل کااستعمال کھلی سڑک اور ہریالی والی جگہ پر کیا جاتا ہے ، تفتیش کے دوران ملزمان سے لیے گئے بیانات سے پتہ چلا کہ قصرناز کی انتظامیہ مذکورہ خطرناک ٹوکسس کیمیکل کا استعمال 6 سال سے کررہی ہے۔

اس طرح کا خطرناک کیمیکل کسی صورت گھروں میں استعمال نہیں کیا جاتا، جس مقام پر ٹوکسس کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے وہاں 24گھنٹے تک کسی جاندار کا رہنا درست نہیں ہوتا۔

ڈرائیونگ لائسنس برانچ کلفٹن کے سلیم واحدی آڈیٹوریم میں ڈی آئی جی ساؤتھ سرجیل کھرل نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ متاثر ہ خاندان 22فروری کو کوئٹہ سے کراچی پہنچ کر قصر ناز میں ٹھہرا تھا ، ہلاک ہونے والے بچوں کے ماموں فیصل نے نوبہارہوٹل سے بریانی خریدی جو متاثرہ خاندان نے کھائی جس کے بعد بچوں کی موت واقع ہوئی۔

قصر ناز میں پانچ بچوں سمیت 6 افراد کی موت پرسول لائن تھانہ میں مقدمہ الزام نمبر 23/2019درج کرکے پولیس نے تفتیش کاسلسلہ جاری رکھااور قصرناز ہوٹل کے تین کمرےسیل کردیے گئے۔

تفتیشی ٹیم کو ہوٹل کے معائنہ کے دوران اسٹورسے مضحر صحت کیمیکل کے شواہد ملے ،ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق قصرناز ہوٹل کے عملے کے مجموعی طورپر12 افرادکےعلاقہ اسٹوڈنٹ بریانی کی انتظامیہ کے بیانا ت بھی لیے گئے تھے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق متوفین کی پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ میں قصر ناز سے ملنے والے جان لیوا کیمیکل اور نوبہار ہوٹل سے لائی گئی بریانی کے کیمیکل کا وجودبھی پایا گیا۔

واضح رہے کہ21فروری کو کوئٹہ خانوزئی سے کراچی آکر قصر ناز میں ٹھہرنے والے خاندان کے بچے عبدالعلی، عزیز فیصل، عالیہ، توحید، سلویٰ سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔