جب شواہد اور گواہ ہی جھوٹے ہوں تو سزا کیسے ہوگی؟ چیف جسٹس

190

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ جھوٹی گواہی پرملزم بری ہوجاتے ہیں اورالزام عدالتوں پر آتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمےکی سماعت کے دوران جھوٹی گواہی سے متعلق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ گواہ اللہ کو حاضروناظر جان کر بھی جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی گواہی کی وجہ سے ملزمان بری ہوجاتے ہیں اور پھرکہا جاتا ہے کہ عدالت نے ملزم کو بری کر دیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لوگ سوال اٹھتے ہیں کہ ملزم کو عدالت نے بری کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ جب شواہد اور گواہ ہی جھوٹے ہوں تو سزا کیسے ہوسکتی ہے؟