وزیراعظم کی سالانہ آمدن میں کمی، شہباز اور بلاول کی آمدنی میں اضافہ

76

اسلام آباد (آن لائن) سرکاری دستاویزات کے مطابق اہم و سرکردہ سیاستدانوں کی حالیہ سالوں میں زراعت اور دیگر ذرائع سے کل آمدن میں کمی و بیشی کا واضح فرق سامنے آگیا، وزیراعظم عمران خان کی 2015ء میں کل آمدن 3 کروڑ 56 لاکھ روپے تھی جو 2016 میں کم ہوکر 1 کروڑ 29 لاکھ ہوئی اور 2017 میں یہ مزید کم ہوکر صرف 47 لاکھ پر پہنچ گئی۔ 2015ء میں عمران خان کی آمدن کا بڑا حصہ ان کے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع 2کروڑ کے فلیٹ کی فروخت سے حاصل ہوا تھا جبکہ 98 لاکھ انہیں بیرون ممالک سے رقم کی مد میں ملے تھی۔ دستاویزات میں 34 لاکھ ان کی زراعت سے آمدنی، رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے تنخواہ کی مد میں 9 لاکھ 21 ہزار روپے، پی ایل ایس منافع 7 لاکھ 62 ہزار روپے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی پنشن 4 لاکھ 10 ہزار روپے بتائی گئی۔ رواں سال ان کی کل آمدنی کم ہوکر 1 کروڑ 29 لاکھ ہوگئی جس میں سے انہوں نے 74 لاکھ روپے صرف غیر ملکی خدمات سے حاصل کیے۔ ان کی زرعی آمدنی میں بھی کمی سامنے آئی جو گزشتہ سال 34 لاکھ کے مقابلے میں اس سال 33 لاکھ ہوئی۔ انہوں نے بطور رکن قومی اسمبلی 9 لاکھ 54 ہزار روپے تنخواہ لی، پی ایل ایس منافع میں انہیں 7 لاکھ 33 ہزار روپے ملے اور پی سی بی کی پنشن 5 لاکھ 40 ہزار روپے ملی۔ 2017ء میں عمران خان کی زرعی آمدنی اور پی ایل ایس منافع میں کمی سامنے آئی جو بالترتیب گزشتہ سال کے 33 لاکھ سے 23 لاکھ اور 7 لاکھ 33 ہزار سے 67 ہزار 620 روپے ہوگئے تھے۔ رکن قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے ان کی تنخواہ میں 18 لاکھ کا اضافہ ہوا اور پی سی بی کی پنشن کی مد میں انہیں5 لاکھ 40 ہزار روپے ملے۔ اس کے برعکس قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی کل آمدنی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا جو 2015ء میں 76 لاکھ تھی، 2016ء میں 95 لاکھ ہوئی اور 2017ء میں 1 کروڑ سے بھی زائد رہی تاہم ان کی زرعی آمدنی میں کمی سامنے آئی جو 2015ء میں 65 لاکھ، 2016ء میں 50 لاکھ اور 2017ء میں مزید کم ہوکر 35 لاکھ رہ گئی تھی جبکہ ان کی زمینوں میں بھی اس عرصے میں اضافہ سامنے آیا جو 585 کنال سے بڑھ کر 673 کنال ہوگئی۔ دوسری جانب ان کے بیٹے حمزہ شہباز ان سے زیادہ امیر اور سمجھدار معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زرعی آمدنی اور کل آمدنی دونوں میں ہی اضافہ سامنے آیا۔ حمزہ شہباز کی 2015ء میں کل آمدن 1 کروڑ 91 لاکھ تھی، 2016ء میں یہ 2 کروڑ 15 لاکھ اور 2017ء میں 2 کروڑ 54 لاکھ روپے رہی۔ ان کی 154 کنال کی زمین سے زرعی آمدنی 2015ء میں 20 لاکھ سے معمولی حد تک زیادہ رہی تھی تاہم 2017ء میں ان کی زمین میں کمی کے باوجود ان کی زرعی آمدنی میں واضح تبدیلی سامنے آئی جسے 35 لاکھ روپے کے قریب بتایا گیا۔ سابق صدر آصف زرداری کی زرعی آمدن جو ان کی کل آمدن کا زیادہ تر حصہ ہے، 2015ء میں 10 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھتے ہوئے 2016ء میں 11 کروڑ 40 لاکھ اور 2017ء میں 13 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان کی دیگر ذرائع سے آمدنی 2015ء میں 76 لاکھ 60 ہزار رہی تھی جو 2016ء میں 82 لاکھ 40 ہزار ہوئی اور عام انتخابات سے قبل سال میں وہ 97 لاکھ 50 ہزار رہی۔ دوسری جانب ان کے صاحبزادے بلاول زرداری بھی پاکستان اور دیگر ممالک میں اثاثوں کے اعتبار سے ان سے امیر نظر آئے تاہم وہ آمدن میں ان سے کم رہے۔ بلاول زرداری کی 2015ء میں کل آمدن 2 کروڑ 30 لاکھ رہی جس میں 34 لاکھ کرائے کی مد میں آمدن تھی اور 2 کروڑ سے زائد انہوں نے زراعت کی مد میں کمائے۔ ان کی کل آمدن میں ایک سال میں 100 فیصد اضافہ سامنے آیا جو 2 کروڑ 30 لاکھ سے بڑھ کر 2016ء میں 4 کروڑ 73 لاکھ ہوگئی۔ ریکارڈ کے مطابق ان کی آمدن میں اضافہ زراعت اور کرائے کی مد میں آمدن کے علاوہ 1 کروڑ 66 لاکھ روپے کی غیر ملکی آمدن سے ہوا۔