پاکستان سپر لیگ دہلی یا کابل میں؟

198

 

حبیب الرحمن

پاکستان کی بہت ساری قومی نوعیت کی تقاریب پاکستان سے باہر ہوا کرتی ہیں۔ 23 مارچ ہو یا 14 اگست، ان کو کابل یا دہلی میں منایا جاتا ہے۔ جب اتنے اہم قومی دنوں کو ہم کابل یا دہلی میں منعقد کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد پاکستان میں کیا جا سکے۔ ویسے تو ہماری کرکٹ کے سارے میچز ایک طویل عرصے سے پاکستان سے باہر ہی ہو رہے ہیں۔ اب مجھے یہ بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ شارجہ یا دبئی پاکستان میں کب شامل ہوئے لیکن لگتا یہی ہے کہ کرکٹ کی حد تک تو یہ پاکستان ہی کے شہر ہیں جن کو دنیا غلطی سے کوئی الگ ملک سمجھ بیٹھتی ہے کیوں کہ پوری دنیا میں بات یہی کہی جارہی ہوتی ہے کہ شارجہ یا دبئی میں کھیلے جانے والے میچوں کا ’’میزبان‘‘ پاکستان ہی ہے اور دیگر حصہ لینے والی ٹیمیں مہمان ٹیمیں ہیں۔ ویسے یہ بات اتنی غلط بھی نہیں اس لیے کہ آج کل عام طور پر ہر غریب و امیر شادی بیاہ یا دیگر تقاریب کے لیے اپنے گھر کے بجائے ہال کی بکنگ کراتا ہے اس طرح پرائے مقام کے باوجود وہ میزبان ہی کہلاتا ہے اور شرکا مہمان۔ بس اسی طرح پاکستان بھی اپنے میدان پاکستان سے باہر کرائے پر حاصل کرتا ہے اور بڑے فخر کے ساتھ میزبان بن کر دنیا کی ٹیموں کو مہمان بنا کر اپنی سر بلندی پر نازاں ہو جاتا ہے۔
یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی میدان کو کرکٹ کا میدان جنگ بنانا پاکستان ہی کی ’’بدعت‘‘ ہے کیوں کہ دنیا کا ہر ملک جب بھی از خود میزبان بنتا ہے تو اس کے اپنے ہی ملک کے میدان، میدان جنگ بنتے ہیں۔ اصل میں دنیا اس بات کو سمجھ نہیں رہی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور کوئی بھی امن پسند ملک اپنی زمین کو کسی ’’لڑائی‘‘ کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ لہٰذا وہ سارے ممالک جو اپنے ہی ملک میں میزبان بن کر، آنے والے مہمانوں کو مار مار کر بھرکس نکال دینے کے باوجود بھی ’’میزبان‘‘ کہلاتے ہیں ان کو یہ بات ضرور سوچنی چاہیے کہ وہ مہمان نوازی کی اقدار سے بالکل ہی ناواقف ہیں۔ ان ہی ساری باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے پاکستان نے شاید یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ کبھی اپنے ملک میں اپنی مہمان نوازی کی اقدار کو پامال نہیں ہونے دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے جتنے بھی مہمانوں کو دعوت دینے کے بعد ان کو میدان میں مار مار کر دنبہ بناتا ہے وہ ان کے اپنے میدان نہیں ہوتے اور کیوں کہ وہ میدان صرف میدان ہی ہوتے ہیں اور وہ فقط ان کا کرایہ دیتا ہے اس لیے مہمان نوازی کے وہ تقاضے جو اپنے میدانوں میں روا رکھنے ضروری ہوتے ہیں، اگر ان سے پہلو تہی کر بھی لی جائے تو اس میں کوئی شکایت کسی کو کرنی نہیں چاہیے۔ ویسے تو پاکستان میں کوئی بھی غیر ملکی ٹیم آکرکھیلنا پسند ہی نہیں کرتی لیکن نہ جانے کیوں پاکستان مسلسل اس کوشش میں مصروف ہے کہ کبھی تو کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان آکر شرف مہمانی بخشے۔ پاکستان کی ٹیم کیوں کہ اب دنیا میں ایک مضبوط ٹیم کی صورت میں ابھرتی جارہی ہے اس لیے دنیا کی ہر ٹیم یہاں آتے ہوئے ڈرتی ہے اور کہتی ہے کہ جو حال آپ ہمارا بنانا چاہتے ہیں کیوں نہ آپ دنیا کے کسی اور ملک میں آکر بنائیں تاکہ آپ کی مہمان نوازی پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
پاکستان نے دنیا کی ٹیموں کی اس قدردانی کا حل بھی ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ میدان بے شک پاکستان ہی کے ہوں گے۔ شہر بھی پاکستان ہی کے ہوں گے اور ناظرین بھی سارے کے سارے پاکستانی ہی ہوں گے لیکن ہم ماحول ایسا بنادیں گے کہ آپ کو بالکل یہی محسوس ہوگا کہ ہمارے سارے میجز پاکستان سے باہر یا تو کابل میں ہو رہے ہیں یا پھر دہلی میں ان کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ آپ کو ہزاروں محافظوں کے ساتھ بلٹ پروف گاڑیوں میں بٹھا کر ان رہائش گاہوں میں لے جایا جائے گا جہاں آپ کا قیام ہوگا۔ پورا ہوٹل سرکاری اہل کاروں سے بھرا ہوا ہوگا جو آپ کو احساس تحفظ دے رہا ہوگا۔ آپ کے کمروں، بیت الخلاؤں، راہ داریوں، ہالوں اور در و دیواروں ہی کو نہیں بلکہ کھیل کے میدانوں کے چپے چپے کو نہایت مہارت اور ذمے داری سے چیک کیا جائے گا کہ کہیں کسی نے کوئی بم تو نہیں رکھ دیا ہے۔ شہر میں کرفیوں کا سماں ہوگا۔ گزرگاہوں پر یا تو آپ ہوں گے یا آپ کے محافظ۔ اگر راہیں پر خطر ہوگئیں تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھیل کے میدان تک لایا اور لے جایا جائے گا۔ المختصر کوئی بھی ایسی کسر نہیں چھوڑی جائے گی جس سے آپ کو یہ گمان گزرے کہ آپ پاکستان جیسے پر امن ملک میں اپنے میچز کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کے ہر انتظام سے آپ کے دل میں یہی احساس اجاگر ہو گا کہ آپ کابل یا دہلی میں موجود ہیں یا پھر سری نگر میں مصرف پیکار ہیں۔
پاکستان کا یہ قدم اور ٹی وی اور نشریاتی اداروں کے ذریعے مشتہر ہونے والے مناظر کے بعد دنیا کے وہ غیر ملکی کھلاڑی جو پی ایس ایل میں شریک تھے، ان میں سے اکثر پاکستان آنے پر راضی ہوگئے اس لیے کہ انہیں یقین ہو گیا کہ میچ بے شک پاکستان ہی میں ہو رہے ہیں لیکن ماحول سارا کا سارا خود پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اجنبی ہے۔ اس قسم کی ایک کوشش کچھ عرصے قبل لاہور میں زمبابوے کی ٹیم کو بلاکر بھی کی گئی تھی۔ ایک نہایت جنگجوانہ ماحول ابھارا گیا تھا اور ایک بہت بڑے علاقے میں خاموشی کا راج نافذ کرکے کچھ پر شور میچز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اتنے انتظامات اور محافظوں کی موجودگی میں بھی آخری میچ کے بعد تمام کے تمام کھلاڑیوں کو اسٹیڈیم سے ہیلی کاپٹر کی مدد سے براہ راست ائر پورٹ منتقل کرکے ’’ساتھ خیریت‘‘ کے ان سب کو اپنے ملک روانہ کردیا گیا تھا۔ ہم دنیا کو ہر مرتبہ ایک ہی پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ یہ نہ صرف امن و امان کا گہوارہ ہے بلکہ ہم نے گزشتہ کئی برسوں کے بعد تمام دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے پورے ملک میں امن بحال کر دیا ہے۔ شہروں کی روشنیاں بحال ہو گئی ہیں اور کسی بھی ملکی و غیر ملکی فرد کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کی کوئی بات نہیں رہ گئی ہے۔ امن و امان کا عالم یہ ہے کہ ایک خاتون رات کی تاریکی میں بھی اپنے ہاتھوں میں سونا اچھالتے ہوئے پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے کا سفر کرتی ہے اور اسے کوئی دیکھنے والا تک نہیں ہوتا۔ یہ سارے پیغامات جو دنیا کے بھیجے جاتے ہیں اسی کی نفی ہمارے اعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ قومی تقریبوں میں پورے پورے شہروں کی موبائل سروسز کو بند کردینا۔ مقام تقریب سے کئی کئی میل کے فاصلے کو ہر گزرنے والے کے لیے بند کردینا۔ چپے چپے پر پہرے بٹھا دینا۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند کردینا۔ دفاتر کی چھٹیاں کر دینا اور زمین و آسمانوں کی نگرانیاں کرنا جیسے اقدامات کے بعد اپنے ہی امن و امان کے دعوؤں کی نفی کرنے کے بعد بھی تقاریب کے انقاد پر فخرکرنا اپنا طرہ امتیاز سمجھنا کیا درست بات ہے؟۔
پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی کچھ اسی ماحول میں ہو رہا ہے۔ ایسے موقع پر میں اس سوچ میں گم ہو کہ ایک وہ وقت بھی تھا جب پورے شہر کو یہ پتا بھی نہیں چلتا تھا کہ ان کے شہروں کے کھیل کے میدانوں میں کتنا شور مچا ہوا ہے۔ دنیا تو دنیا، خود ہمارے سب سے بڑے دشمن بھارت کی ٹیم پاکستان کے ہر میدان میں ’’دوستی‘‘ کو فروغ دے رہی ہوتی تھی۔ پاکستان بھارت میں جاکر اپنی مقابل ٹیم کو پچھاڑ رہا ہوتا تھا۔ دنیا پاکستان کے اس امن کو کیسے بھول سکتی ہے اور اب کے دعوؤں سے کیسے مطمئن ہو سکتی ہے، اس بات کو اہل اقتدار غور کریں یا نہ کریں لیکن عسکری حلقوں کو ضرور غور کرنا ہوگا اس لیے کہ گزشتہ کئی دھائیوں سے امن و امان کے بحالی کے سارے اختیارات پاکستان کی ہر سیاسی پارٹی نے ان کو تفویض کر دیے ہیں۔ آپریشن کلین اپ، آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد اور ایسے ہی دیگر عنوانات کے آپریشنوں کے بعد بھی پاکستان میں کھیلوں کے انعقاد اور قومی تقاریب کے لیے اتنے انتظامات کرنے پڑرہے ہوں تو پھر قوم کا سوال کرنا کوئی ایسی بات نہیں جس پر پیشانیاں پر شکن ہو جائیں۔