مجالس شوریٰ واجتماعات (۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۵ء) (باب چہارم)

161

محمود عالم صدیقی

ان مطلوبہ اوصاف کے ذکر کے بعد رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ’’میں نیکی کا حکم دوں اور بدی سے روکوں‘‘۔
جماعتی اوصاف: جماعتی حیثیت سے جماعت کو مستحکم بنانے کے لیے ارکان جماعت میں محبت‘ ہمدردی‘ آپس میں حسن ظن‘ اعتماد‘ مشترکہ صلاحیت کار‘ آپس میں منظم مربوط ہونا۔ جماعتی نظم کے لیے ناگزیر ہے۔ سیرت نبوی اور سیرت صحابہ کے مطالعے سے مطلوبہ اجتماعی اخلاق کے عملی نمونے حاصل کیے جاسکتے ہیں اور اپنے اجتماعی نظم کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ مجاہدہ فی سبیل اللہ کے لیے ضروری اوصاف میں صبر واستقامت‘ ایثار وقت کا‘ محنتوں کا اور مال کا ایثار اور دلی لگن یعنی وہ جذبہ جو ہر وقت آپ کو اپنے نصب العین کی دھن لگائے رکھے دل و دماغ کو یکسو کردے اور سب ذاتی اور خانگی معاملات سے توجہ ہٹاکر اپنی توجہ صرف اس کام پر مرکوزکردے۔ مجاہدے کے لیے مسلسل اور پیہم سعی اور جدوجہد اور منظم طور پر کام کرنے کی عادت ہونی بھی ضروری ہے۔
پیش نظر ضروری کام: سب سے پہلا کام شخصی واقفیت یعنی کن اوصاف کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور ان کی صلاحیتوں سے کیا کام لیا جاسکتا ہے‘ تاکہ ایک مکمل نقشہ کار مرتب کیا جاسکے۔
دوسرا ضروری کام اشخاص کی تربیت کے لیے ایسی مشینری تیار کرنا ہے‘ جس کے ذریعے ضرورت کے آدمی تیار کرسکیں۔ تیسرا شدید اہمیت کا کام نئی نسلوں کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق تحریک کی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ صاحب اسی غرض کے لیے تشریف لائے ہیں۔ چوتھا اہم درپیش کام‘ عورتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ عورتوں کی اصلاح کے بغیر ہماری اصلاح نامکمل ہے۔ اپنے گھروں کو مسلمان بنائے بغیر ہم دنیا کو مسلمان نہیں بناسکیں گے۔
پانچواں کام یہ ہے کہ رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے منظم کوشش کی جائے۔ اب تک صرف تحریروں سے کام لیا گیا ہے۔ لوگوں کی اپنی زبانوں میں علوم کی تدوینِ جدید ضروری ہے۔ نشرواشاعت کے لیے نئے ڈھنگ کی تقریروں سے بھی کام لینا ہوگا۔ نمائش اور ہنگامہ آرائی سے دور‘ ذمے دار گفتگو‘ باوقار‘ وزن دار اور ممتاز آوازیں بلند کرنی ہیں۔ لیکن نشر افکار کو اخلاق اسلامی کا پابند بناکر ان غیر صالح عناصر سے انہیں پاک کردیں جو شتر بے مہار قسم کے لوگوں نے ان میں ملادیے ہیں۔
دوسری نشست: ۲۷؍مارچ کو صبح نو بجے سے ۱۲ بجے تک ہوئی جس میں جماعتوں کی مقامی کارگزاری کی رپورٹیں سنی گئیں۔ ان رپورٹوں کی غرض یہ تھی کہ حاضرین کو پتا چل جائے کہ کہاں کہاں کس نوعیت کے کام ہورہے ہیں؟ حائل مشکلات کیا ہیں ان کو کس طرح حل کیا جارہا ہے؟ اور جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں کتنی آگے پیچھے ہیں؟ اس کے بعد امیر جماعت کے ایما پر مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ہدایات اور مشورے دیے۔
انہوں نے دوسری جماعتوں سے تعلق اور تصادم کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس میں اصلاح کی کافی گنجائش ہے۔ تبلیغ حق کی راہ میں مشکلات ناگزیر ہیں۔ حق کا کام کرنے والوں کو مزاحمتوں سے دوچار ہونا ہی ہے۔ صحیح علاج سوچنے کی ضرورت ہے۔ خواہ مخواہ تصادم سے گریز ضروری ہے۔ زوردار تقریروں کے بجائے ہمیں اپنے انفرادی اعمال اور اجتماعی کردار کو وسیلہ بنانا ہوگا۔ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم اپنے مقصد میں مخلص ہیں۔ ہمیں کسی سے دشمنی نہیں بلکہ سب سے حقیقی ہمدردی ہے۔ اب تک ہمارے ساتھ بے شمار عصبیتیں چمٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں اپنے بیوی بچوں‘ احباب‘ جماعت اور اپنی قوم کو غلط عصبیت کی آلودگیوں سے پاک کرنا ہے‘ ورنہ یہ ہماری دعوت کی راہ میں چٹان بن کر حائل رہیں گی۔ اس کے لیے اسوۂ انبیاء کا مطالعہ ضروری ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے رشتہ حق کے سوا ہر رشتے کو توڑ دیا۔ اگر ان میں داعیان ہدایت کے اسوہ کا اتباع کیا جائے تو ہماری تبلیغی مشکلات معاً حل ہوسکتی ہیں۔ دوسرے تعلّیِ اور گھمنڈ ایک داعی حق کے لیے سب سے بڑا حجاب اور رکاوٹ ہے۔ تکّبُر کے مظاہرے سے لوگ بِدک جاتے ہیں اور کان بند کرلیتے ہیں۔ انکشاف حق کے علم کو اللہ کے فضل کا نتیجہ سمجھیں۔ اس سے شکر گزاری اور تواضع کا جذبہ پیدا ہوگا‘ اور بندگان خدا کے ساتھ آپ کے تعلق کو مضبوط کرے گا۔ داعی حق کو عوام سے ویسی ہی گہری اور قلبی محبت ہونی چاہیے جیسی ایک بچے کے لیے ماں اور باپ میں پائی جاتی ہے۔
اگر تعلیم کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا ہے تو غضب‘ طنزو تعریض‘ درشت زبانی اور تلخی گفتار کے مروجہ زبانوں پر چڑھے الفاظ کے ہتھیار کھول ڈالیے۔ رسول کریم ؐ نے طائف میں پتھروں کا نشانہ بننے کے باوجود ظالموں کے حق میں بددعا کے بجائے اہل طائف کے لیے ہدایت کی دعا کی تھی۔ یہ جذبہ پیدا کیے بغیر اور حق پر ہونے کے باوجود‘ حق کا کام نہیں ہوسکتا۔ داعی کا مقام ہارجیت سے بہت بلند ہوتا ہے۔ ریاکاری سے خلوص کی روح کبھی پیدا نہیں ہوتی اور خلوص کے بغیر دعوت حق کو دوسروں کے دل و دماغ میں اتارنا ناممکن ہے۔
ہمیں نبیوں کے طریقہ کار کی پیروی کرنا ہے اور براہ راست وہیں سے روشنی حاصل کرنی ہے۔ یہ غلط فہمی دور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم خدا نخواستہ مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ اس وقت مسلمانوں کا بڑا طبقہ صحیح شعورِ دینی سے محروم ہوچکا ہے۔ ہمیں اس کو بیدار کرنا ہے تو ساری آلودگیاں خود بخود دور ہوجائیں گی۔
(جاری ہے)