نقظہ نظر

112

 

رمشا یاسین

بعد موت، زندگی
وہی ہے جس نے زندہ کیا۔ وہی ہے جس نے فنا کیا۔ وہی پھر سے دے گا زندگی۔ پہلی بار جس نے پیدا کیا۔ابراہیم خلیل اللہ نے اللہ سے فرمایا کہ یا اللہ! میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں کہ تو کس طرح دوبارہ سے مردوں کو زندہ کرے گا۔ اللہ نے ابراہیم سے کہا کہ اے ابراہیم۔ کیا تمہیں میری قدرت پر کوئی شک ہے؟ ابراہیم ؑ کہنے لگے کہ اے اللہ نہیں۔ مجھے تیری قدرت پر کوئی شک نہیں مگر میں پھر بھی مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ ایسا کرو ایک کبوتر پکڑو اور اسے ذبح کردو۔ پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جگہ جگہ پھینک آؤ۔ ابراہیمؑ جب یہ کر چکے تو اللہ نے کہا کی اب اس کبوتر کو پکارو۔ ابراہیم ؑ نے جب اس کبوتر کو پکارا تو اس کے ٹکڑے جہاں جہاں بھی پڑے تھے۔ اڑ اڑ کر جڑنے لگے اور وہ کبوتر سہی سالم آپؑ کے پاس تشریف چلا آیا۔
انسان موت کے بعد زندگی کو جھٹلاتا ہے۔ کہتا ہے کہ کیسے ممکن ہے جب کہ مری ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہوں گی۔ سڑ کر خاک ہو چکی ہوں گی۔ میں پھر سے سہی سالم کھڑا ہوجاؤں گا؟ آخر ایسا کیسے ہو گا کہ مردے کو حیات مل جائے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کہ دماغ میں کہیں نہ کہیں یہ کھٹکتا ہی ہوگا۔ جب ابراہیم خلیل محبوب خدا اللہ سے ایسا سوال کرسکتے ہیں تو ہماری کیا بساط۔ اسی لیے اللہ نے ہم پر قرآن نازل کیا اور لا تعداد نشانیاں مقرر کردیں تاکہ انسان اس سے عبرت حاصل کرسکے۔ کائنات کے اس نظام میں بے شمار حقیقتیں، اور ایسی نشانیاں کار فرما ہیں جو بعد موت، زندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
نظروں کو ڈورائیں، اور جو دماغ اللہ نے دیا ہے اسے لگائیں۔ پھر ذرا وقت نکال کر سوچیں کہ جب آسمان سے پانی برستا ہے تو کہاں سے، آخر کہاں سے پروانے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اندھے تو یہی کہیں گے کہ بارش کہ ساتھ انہیں بھی اللہ آسمان ہی سے اسی وقت پیدا کردیتا ہے۔ اچھا تو کیا آپ نے پروانوں کو برستے دیکھا؟ کیا اللہ نے کبھی پروانوں کی بارش آپ پر کی؟ تو پھر کیسے وہ برسات کے کچھ ہی دن بعد غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ پیدا ہو چکے تو انہیں زندہ رہنا چاہیے۔ لیکن بارش ہونے پر ہی پیدا ہونا اور پھر اچانک بارش کے رک جانے پر مر جانا سمجھ میں نہیں آتا۔ چلیں ایک اور مثال لے لیں۔ ایک تالاب جو پانی سے مالا مال تھا اور مچھلیاں اور طرح طرح کی کیڑے اس میں بکثرت موجود بھی تھے۔ وہی تالاب اگر خشک ہو گیا ہو تو وہ ساری مچھلیاں کہاں جائیں گی؟ آپ اب یہ کہیں گے کہ وہ یا تو مر جائیں گی یا پھر انہیں زمین نگل لیگی۔ تو پھر عرصہ دراز بعد جب اللہ اس تالاب میں پانی برسائے گا، اور اسے پھر سے زندگی دے گا تو کیسے وہاں مچھلیاں اور دوسرے کئی اقسام کے جانور اچانک پیدا ہو جائیں گے؟ تو اب انسان یہ کہے گا کہ انہیں بھی اللہ نے آسمان سے ہی برسا دیا! نہیں! ہر گز اللہ نے ان مچھلیوں اور طرح طرح کے پانی کے جانوروں کو آسمان سے پانی کے ساتھ ہی پیدا نہیں فرمایا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ان کا الوا زمین میں محفوظ ہوتا ہے اور پانی مل جانے پر انہیں زندگی مل جاتی ہے۔ وہ پہلے مردہ ہوتے ہیں مگر پانی کے برستے ہی یکدم زندہ ہو جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جب انسان کو موت آتی ہے۔ اسے مٹی میں دفن کردیا جاتا ہے۔ اور اس کا جسم، اس کی ہڈیاں غرض کے اس کا سبھی کچھ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی خاک مٹی میں مل جاتی ہے مگر اس کا عکس مٹی میں محفوظ ہوتا ہے۔ اور محفوظ رہے گا جب تک کہ اللہ کا حکم ہوگا۔ جس طرح پانی کے برسنے پر مچھلیاں زندہ ہو جاتی ہیں اور پروانے بھی حیات پاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح صور پھونکا جائے گا اور انسان کو زندگی مل جا ئے گی۔
کیا ہم انسان پھولوں کو نہیں دیکھتے۔ بہار کے لوٹ آنے پر انہیں زندگی میسر آتی ہے۔ مگر جوں ہی خزاں کی لپیٹ میں آتے ہیں، جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں۔ اور بہار کے دوبارہ لوٹ آنے پر پھر سے زندگی پاتے ہیں۔ کیا ہم نے موسموں کا حال نہیں دیکھا؟ ایک موسم آتا ہے اور دوسرا چلا جاتا ہے۔ اور پھر گھوم پھر کے وہی موسم دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ کیا ہم نے آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے؟ کیا ہمیں نہیں دکھتا کہ سورج طلوع ہوتا ہے اور اپنے مقررہ وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ مگر اگلے دن پھر سے گردش میں مصروف کار ٹھیرتا ہے۔ کیا رات دن میں اور دن رات میں نہیں ڈھلتا، اور یہ عمل ہر روز جاری و ساری رہتا ہے۔ کبھی رات کو حیات ملتی ہے کبھی دن کو۔ کیا ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ایک فصل اس وقت تک بیکار پڑی رہتی ہے جب تک کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن جیسے ہی اسے پانی ملتا ہے تو سبزہ اس میں سے پھوٹنے لگتا ہے۔ جس طرح ہر موسم دوبارہ لوٹتا ہے۔ یر پھول دوبارہ کھلتا ہے۔ تمام سبزہ بار بار لہلہاتا ہے۔ سورج چاند تارے نئی زندگی لیکر ہر دن پلٹتے ہیں۔ رات دن ہر موت کے بعد پھر سے لوٹتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی انسان بھی زندہ ہوگا۔ اسے موت کے بعد دوبارہ زندگی عطا ہوگی فرق بس یہ ہوگا کہ وہ نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ ابدی ہوگی۔ انتہا ہوگی۔ جنت میں ہوگی یا جہنم میں۔
پانی کی منصفانہ تقسیم میٹر لگانے سے ممکن
پانی کے بغیر حیات ممکن نہیں ہے اسی لیے کہا جاتاہے پانی ہی زندگی ہے ۔کراچی سمیت ملک بھر میں ایسے علاقوں کی کمی نہیں جہاں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں،روز مزدوری یا دفترجانے سے پہلے لوگ پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ پانی غیر منصفانہ تقسیم ہے، واٹر بورڈ کی ناقص حکمت عملی اور پانی مافیا کی ساز باز سے کچھ علاقوں میں روز پانی دستیاب ہوتا ہے اور بعض علاقوں کے مکین ایک ایک مہینہ انتظا رکرتے ہیں، جب پانی آتا ہے تو پہلے گھنٹے میں گٹر کا ملا پانی آتا ہے، اس نا انصافی کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ پانی کی منصفانی تقسیم کی جائے، اس کے لیے بجلی اور گیس کی طرح پورے شہر میں پانی کے صارفین کے لیے بھی میٹر لگائے جائیں تاکہ لوگ پانی کو ضائع نہ کریں اور بچ جانے والا پانی دوسرے صارفین کو مل جائے، اس طرح اورنگی ٹاؤن کے مکینوں کو بھی پانی کی قلت سے نجات مل جائے گی، اس حکمت عملی سے واٹر بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ امید ہے ایم ڈی واٹر بورڈ اس جانب توجہ دیں گے۔
صالحہ فاطمہ، جامعہ کراچی
جامعہ کراچی کی پوائنٹ اور طالبات
جامعہ کراچی ایسی یونیورسٹی ہے جہاں شہر کے دور دراز علاقوں سے غریب طلبہ و طالبات تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے آتے ہیں، اورنگی ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے غریب طلبہ وطالبات یونیورسٹی کی پوائنٹ کا استعمال کرتے ہیں جو ہر طالب علم کے لیے سہولت کا باعث ہے، پبلک ٹرانسپورٹ سے یونیورسٹی جانا کافی مشکل ہے۔ جبکہ مسئلہ یہ ہے کے اورنگی میں صرف دو ہی پوائنٹ آتے ہیں جو یہاں کی ضرورت کے لیے ناکافی ہیں۔ زیادہ تر طالبات کھڑی ہوکر اور دروازوں پر لٹک کر سفر کرنے پر مجبورہوتی ہیں، جس سے قیمتی جانوں کا نقصان ہو سکتا ہے، سخت گرمی کی وجہ سے اکثر طالبات بے ہوش ہوجاتی ہیں، طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے باعث بس ایک طرف جھک جاتی ہے۔ اس پر یہ کہ انتظامیہ سے ناراض ڈرائیور صبح کے وقت سلور جوبلی گیٹ کے باہر ہی طلبہ و طالبات کو اتار دیتا ہے، یہاں سے اپنے اپنے ڈپارٹمنٹ تک جانے کے لیے 30 سے 40منٹ پیدل سفرکرنا پڑتا ہے۔ میری وائس چانسلر کراچی سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر غور فرمائیں اور اورنگی کے لیے مزید ایک یا دو پوائنٹ کا اضافہ کریں اور ڈرائیور کو وقت کا پابند اور یونیورسٹی کے اندر پوائنٹ لے جانے کی ہدایت کریں ۔
رابعہ شمیم، جامعہ کراچی