قبائل اور پختونخواہ کے حقوق کیلیے ہر ایوان میں آواز اٹھائیں گے ،سراج الحق 

188
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق قبائل ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق قبائل ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے صوبائی نظم کو ہدایت کی ہے کہ حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں ، صوبے کے حقوق کے لیے ہر ایوان میںآواز اٹھائیں گے،حکومت نے قبائلی علاقوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے ، این ایف سی میں 3 فیصد حصہ ، بے روزگاری کے خاتمے کا وعدہ کیالیکن اس جانب ابھی تک ایک بھی قدم نہیں اٹھایا، پاکستان کے عوام امن پسند لوگ ہیں اور قبائلی عوام نے پاکستان کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں حکومت نے اس کے بدلے میں قبائلی عوام کو کیا دیا ہے؟ ،قبائلی عوام نے قائداعظم سے بغیر تنخواہ کے مغربی سرحد کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور 70سال سے وہ وعدہ نباہ رہے ہیں، قبائلی عوام کے لیے کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی گئی اور کوئی اسپتا ل نہیں بنا،ان علاقوں کے عوام مریض کو سیکڑوں کلومیٹر دور پشاور کے اسپتالوں میں لاتے ہیں ، قبائلی عوام اپنے اور اپنی نئی نسلوں کے لیے اب آزادی چاہتے ہیں،تعلیم اورروزگار چاہتے ہیں ،صحت کی سہولیات چاہتے ہیں،جماعت اسلامی نے قاضی حسین ا حمد کی قیادت میں قبائل کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ہنگامی حالات اور ہر مشکل وقت میں جماعت اسلامی نے قبائلی بھائیوں کا ساتھ دیا۔وہ پشاور میں قبائلی ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ کنونشن سے امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا سینیٹرمشتاق احمد خان ، سابق سینئروزیر عنایت اللہ خان ، امیر جماعت اسلامی قبائیل سردار خان ، سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید ، قبائلی اضلاع کے امراء اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن میں بڑی تعد اد میں قبائلی عوام نے شرکت کی ۔سینیٹرسراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے قبائلی عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی اور یہ جدوجہد رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو تمام سیاسی جماعتوں نے منظور کیاتھا لیکن سابق اور موجودہ حکومتوں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا اور جب بھی نیشنل ایکشن پلان کی بات ہوتی ہے تو یہ مدارس ، مساجد کو تالے لگانے پر آجاتے ہیں اور علماء کرام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی اور پاکستان میں بھی مدارس اور مساجد کو بند کیا جارہا ہے جو اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے کیونکہ مدارس اور مساجد میں قرآن و سنت کی بات ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے نام سے کام کرنے والی اسلامی تحریک کی تنظیم اور قیادت پر پابندی بالکل غلط اور انتقامی کارروائی ہے۔جماعت اسلامی جموں و کشمیر میں تعلیم،صحت،سماجی خدمات انسانی فلاح و بہبود کا کام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر آواز بلندکریں لیکن حکومت نے ابھی تک نہ کوئی آواز بلند کی ہے اور نہ پانبدیوں اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے ۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے رابطہ عوام مہم کا آغاز کردیا ہے جو قبائلی علاقوں سمیت پورے ملک میں جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام اپنے حقوق کے حصو ل کے لیے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کو اسمبلی میں بھیجیں جو آپ کے حقوق کے لیے اسمبلی میں آواز اٹھائیں ۔