ثانوی تعلیمی بورڈ نے اپنے ہی بنائے قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئیں

149

کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ نے وزیر تعلیم کو منانے کے لیے اپنے ہی بنائے گئے قوانین ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے۔ناظم امتحانات نے امتحانی مراکز بنانے سے قبل کھلے میدانوں اور اسکولوں کو دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔شہر کے درجنوں امتحانی مراکز قوانین پر پورا ہی نہیں اترتے ہیں، اورنگی ٹاؤن اور بلدیہ ٹاؤن کے امتحانی مراکز میں سہولیات ہی میسر نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈنے وزیر تعلیم کے احکامات کے چکر میں لاکھوں طلبہ وطالبات کو اذیت میں ڈال دیاہے۔شہر کے کئی امتحانی مراکز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں سندھ انسٹی ٹیوٹ کمپلیکس میں قائم کیے گئے امتحانی مرکز میں لڑکوں کی کم وبیش تعداد نویں سائنس کے 2300،میٹرک سائنس 1669، نویں جنرل کے564 اور دسویں جنرل کے455 جبکہ لڑکیوں کی تعداد نویں میں 758جبکہ دسویں میں803 امیدوار شریک ہوں گے جبکہ وہاں ان امیدواروں کے لیے پانی،واش روم اور پنکھوں کی سہولت سرے سے موجودہی نہیں ہے۔

اسی طرح گورنمنٹ بوائز سکینڈری اسکول لاسی پاڑہ میں لڑکوں کی تعدادنویں سائنس میں 938اوردسویں میں842کا امتحانی مرکز بنایا گیا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے جن اسکولوں کی فہرست دی گئی تھی اس میں اس اسکول کا نام ہی نہیں تھا کیونکہ اس اسکول کی باوندری وال کی تعمیر کاکام جلد ہونا تھا، امتحانی مرکز بننے کے باعث تعمیری کام متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

اس سے قبل اس امتحانی مرکز میں 350کے قریب امیدواروں کا سینٹر تھا۔گورنمنٹ سجاد لوئے اینڈ سیکنڈری اسکول میں لڑکوں کا نویں سائنس میں921 دسویں میں1109جبکہ نویں جنرل میں465 اور دسویں343امیدواروں کا امتحانی مرکز بنایا گیا ہے جبکہ گنجائش اس سے کہیں زیادہ کم ہے۔

بلدیہ ٹاؤن کے ایک اور اسکول گورنمنٹ بوائز سکینڈری اسکول انجام کالونی میں لڑکوں کی تعداد کم وبیش نویں سائنس میں 1128اور دسویں میں1142امیدوار جبکہ اسی اسکول کے باونڈری وال میں ایک اور اسکول قائم ہے جس کا نام گورنمنٹ بوائز سکینڈری اسکول انجام کالو نی کو بھی امتحانی مرکز بنایا گیا ہے۔

جس میں لڑکیوں کی نویں سائنس میں 409اور دسویں 396جبکہ نویں جنرل 167جبکہ دسویں135 ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان تمام امتحانی مرکز میں طلبہ وطالبات کے لیے بنیادی سہولیات ہی محروم ہے۔جس کا ناظم امتحانات خالد احسان نے شاید ہی دورہ کیا ہو کیونکہ پہلی بار میٹرک بورڈ کی جانب سے لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے ایک ہی امتحانی مرکز بنایا گیا ہے جوکہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس حوالے سے ناظم امتحانات خالد احسان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کال موصول نہیں کی۔