اسلامی اقدار پر مبنی مضمون کو نصابِ تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے اور ایک ادارہ دوسرے ادارے کا احتساب کرے۔شوریٰ ہمدرد کراچی

145

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)کراچی یونی ورسٹی کے سابق پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے ذریعے فوری فیصلہ اور بروقت سزا کا نظام نافد کر کے ہی کرپشن پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ایسے قوانین بنائے جائیں کہ لوٹا ہوا قومی پیسہ فوری طور پر وصول کیا جا سکے۔ 

وہ گزشتہ روز ’’موثر احتساب، بدعنوانیوں کا سدباب اور قومی معیشت پر اس کے اثرات‘‘ کے موضوع پر جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ہمدرد کارپوریٹ آفس کراچی میں خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئی اور آنے والی نسلوں کو کرپشن کے عذاب سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ’’اسلامی اقدار‘‘ کے مضمون کو نصابِ تعلیم کا لازی حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کی اس پالیسی نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا کہ قرض لے کر ملک کو چلاتے رہو جس کے نتیجے میں ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلاگیا۔ ’’قرض اتارو۔ ملک سنوارو‘‘ جیسی تحریکیں چلائی گئیں مگر بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔

ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد نے کہا کہ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں دیانتداری اور احتساب کی اپنی روشن تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے، اپنے پڑوسی ملک جو ہمارا گہرا دوست بھی ہے، کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس نے بدعنوانیوں پر قابو پایا اور ا پنی معیشت کو مضبوط بنیاد پر استوار کیا۔ ڈاکٹر ابوبکر شیخ نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ادارے کا احتساب دوسرا ادارہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پیسہ نہیں برے سیاستدانوں سے نجات چاہیے۔ صدر مجلس جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے حرام اور حلال کا تصور دیا، اس اعلیٰ درس کی حامل قوم، پاکستانی قوم میں کرپشن نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں تعلیمات اسلام اور قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کو سامنے رکھ کر اس کے خلاف سخت اقدامات لینے چاہئیں۔

انجینئر پرویز صادق نے کہا کہ ہمیں خود سے کچھ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، دنیا میں بہترین نمونے موجود ہیں، ان سے استفادہ کریں اور ملکی خرابیوں کو دور کریں۔ کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہا کہ ملکی نظام کو درست اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے عدلیہ اور پولیس کے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں ورنہ بدعنوانیاں کبھی نہیں رکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ ٹھیک ٹھیک کام کر رہا ہے، 

جمہوریت کے بغیر احتساب کا عمل جاری نہیں رہ سکتا۔ ابن الحسن رضوی نے کہا کہ کرپشن ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے اور سرطان کی طرح تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے مقدمات کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔ تاخیر انصاف کو روکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26/11 کا ڈرامہ انڈیا کا رچایا ہوا تھا جس کا بھانڈا جرمن صحافی الائس ڈیوڈسن نے اپنی کتاب ’’بٹ ریل اوف انڈیا‘‘ میں پھوڑ دیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقع میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

انور عزیز جکارتہ والا نے کہا کہ جب اوپر بیٹھا ہوا شخص، حکمراں صحیح ہو تو نیچے تک سب صحیح ہو جاتا ہے اس کی مثال خلفائے راشدین اورحضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکمرانی کا دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت سزاؤں کے بغیر کرپشن ختم نہیں ہوسکتا، ایسے جرم پر سعودی عرب میں گردن مار دی جاتی ہے۔ انجینئر انوارالحق صدیقی نے کہا کہ 2012 ء میں شوریٰ ہمدرد کے مشترکہ اجلاس منعقدہ اسلام آباد میں ہم نے کرپشن پر بحث کی تھی آج بھی وہی صورتحال ہے سات آٹھ سال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ بے لاگ کارروائی، جلد فیصلوں اور سخت سزاؤں سے تبدیلی آسکتی ہے اور وسیع تر نیز دیرپا تبدیلی کے لیے فروغ تعلیم بہت ضروری ہے۔ 

پروفیسر محمد رفیع نے کہا کہ چنیدہ احتساب سے کرپشن کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اور نہ معاشرے میں توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ صبر کا مطلب حق و انصاف پر چلنا ہے، ہمیں احتساب اور انصاف کا قیام اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگا، جب تک انصاف ہر سطح پر نافذ نہیں ہوگا، معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ میں سماجی انصاف قائم فرمایا، چھوٹے بڑے کے لیے یکساں قانون نافذ کیا اور خواتین کو برابری کے حقوق دیئے۔

اسلامی نظام لانے کے لیے ہمیں برطانوی نظام قانون کو ختم کر کے اسلامی قانون نافذ کرنا ہوگا تاکہ اللہ کا دیا ہوا نظام ملک میں نافذ ہو۔ ڈاکٹر رضوانہ انصاری نے کہا کہ پیڑ کو دیمک، آدمی کو غم اور ملک کو کرپشن لگ جائے تو ان کا بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غلط کو غلط نہیں کہتے اور اگلے انتخابات میں پھر غلط کاروں کو ووٹ دے دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے اپنے مصائب کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا اصلاح کے لیے ہمیں اپنی ذات سے آغاز کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ کرپشن سے دور رہیں تو آئندہ نسل میں اس عذاب سے جان چھوٹ جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارا ذہن اصلاحات کے لیے تیار نہیں تو کرپشن کیسے ختم ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ خواتین سے متعلق قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا وہ بدستور ملک میں ظلم و زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں۔ محمد عثمان دموہی نے کہا کہ نیب کا کام کرپٹ لوگوں کو پکڑنا اور ان سے لوٹے ہوئے پیسے واپس لینا ہے مگر وہ یہ کام اطمینان بخش طور پر نہیں کر رہے ہیں، کیا نیب کے اوپر ایک اور نیب بنانے کی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر محمد عامر طاسین نے کہا کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ 

جب تک علمائے کرام قوم کو سیدھی راہ پر لانے کا فریضہ پوری طرح انجام نہیں دیں گے، قوم سدھر نہیں سکتی۔ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں مثبت تبدیلی لاکر ہی یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ شمیم کاظمی نے کہا کہ خواتین کو آگے بڑھاکر پاکستانی معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایک سروے کے مطابق خواتین خواہ وہ ڈاکٹرز ہوں، انجینئرز ہوں، سرکاری افسر یا اہلکار ہوں کرپٹ نہیں ہیں۔ لہٰذا خواتین کو سول سروس میں زیادہ مواقع دیئے جائیں۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہین حبیب نے کہا کہ ’’خیابان سائنس‘‘ کے نام سے ان کا دیوان شائع ہوا ہے۔ قوم کو اور خاص طور پر نوجوان نسل کو سائنس کی طرف راغب ہونا چاہیے کہ آج کی دنیا سائنسی علوم کی دنیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خان نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ انگریز کو صرف ظالم حکمراں کی حیثیت سے نہ لیں، اس کے علم اور زبان سے استفادہ کریں۔ 

ہمدرد کے ڈائریکٹر پبلی کیشنز اینڈ پروگرامزسلیم مغل نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کرپشن کی سخت مذمت کی ہے ہمیں چاہیے کہ ان کے خیالات کو عملی شکل دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے اپنے پورے کیریر میں کرپشن نہیں کی ان کی تعریف کی جائے اور جو اس وقت نہیں کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ 

شوریٰ نے ایک قرارداد تعزیت کے ذریعے رکن شوریٰ کراچی بریگیڈیر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق کی والدہ، رکن شوریٰ راولپنڈی/اسلام آباد کے سینئر رکن امیر گلستان جنجوعہ اور پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے سیکریٹری اور تاریخ داں ڈاکٹر انصار زاہد خان کی اموات پر گہر ے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔