وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث ٹیکس وصولی میں کمی ہورہی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

155
جامشورو: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ مہران یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کررہے ہیں
جامشورو: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ مہران یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کررہے ہیں

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں سے ٹیکس وصولی کم رہی ہے‘ اسد عمر دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنی وزارت پر توجہ دیں‘ افسران نیب کارروائیوں کے باعث کا م کرنے سے کترا رہے ہیں‘ پاکستان پرامن ملک ہے، بھارت نے جنگ مسلط کی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ ان خیالات اظہار انہوں نے مہران انجینئرنگ یونیورسٹی کے22 ویں کانووکیشن سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکس وصولی بہت کم ہو رہی ہے جس سے ملک معاشی طور پر کمزور ہو رہا ہے‘ اسد عمر کو چاہیے کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں‘ ملک بھر میں سرکاریافسران نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے کام کرنے سے کترا رہے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان تھر کے دورے پر آئے جس کی دعوت مجھے نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہم نے کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کی اور اگر بھارت کی جانب سے جنگ مسلط کی گئی تو ہم منہ توڑ جواب دینا بھی جانتے ہیں‘ اس وقت بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کیا گیاتو برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کرے۔ نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کچھ روز قبل چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ سے ملاقات ہوئی تھی انہوں نے یقین دلایا کہ نیاز اسٹیڈیم کی بحالی کا کام جلد شروع کیا جائے گا اور اگلے سال پی ایس ایل کے کچھ میچز حیدرآباد میں بھی منعقد کرائیں جائیں گے ۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ملک کو پانی اور ماحولیات آلودگی جیسے چیلنجزکا سامنا ہے ‘مہران یونیورسٹی کے وائس چانسلر پینے کے لیے صاف پانی، خشک سالی اور آب پاشی کے مسائل کے حل کے حوالے سے سفارشات پیش کریں تاکہ حکومت سندھ ان کو مدنظر رکھ اپنی پالیسی مرتب کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ واٹر سینٹر کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت سندھ مدد فراہم کرے گی کیوں کہ یہ ایک اعلیٰ تحقیقی ادارہ ہے جو عالمی سطح پر پانی کے ماہر ین پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی میں پینے کے پانی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے‘ اندرون سندھ پینے کے صاف پانی کے حوالے سے80 فیصد آر او پلانٹس کام کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی نے بھی خطاب کیا‘ تقریب میں 40 گریجویٹس کو اسناد دیں گئیں۔