وفاق خسارے میں ہے سب پیسے صوبے جاتے ہیں،عمران خان

301
چاچھرو: وزیراعظم عمران خان مستحقین میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کررہے ہیں
چاچھرو: وزیراعظم عمران خان مستحقین میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کررہے ہیں

چھاچھرو/عمرکوٹ(نمائندگان جسارت/ مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت شروع ہی 600ارب کے خسارے سے ہوتی ہے، وفاق کے پاس ساڑھے 5ہزار ارب روپے ہیں، سب صوبوں کو چلے جاتے ہیں،گزشتہ10سالوں میں سندھ کے اربوں روپے کہاں گئے سب کو پتا ہے،ہم ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے اوررقم سب سے پہلے تھر اور راجن پور جیسے پسماندہ علاقوں پر خرچ کریں گے،نریندر مودی کی سیاست انسانوں کو تقسیم کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے ،پلوامہ واقعے کے بعد کشمیریوں پر ظلم اور مسلمانوں پر تشدد کیا، الیکشن میں کامیابی کے لیے مودی نے پاکستان کیخلاف جنگ کا ماحول بنایا، ہم نے بھارتی پائلٹ کو رہا کیا، کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، بھارت ہو یا کوئی سپر پاور میں اور میری قوم دم تک اپنی آزادی کے لیے لڑے گی، فوج اور عوام دونوں تیار ہیں،تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی مسلح تنظیم کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ تھر کے علاقے چھاچھرو میں صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے بعد پاکستان میں پہلا جلسہ تھر والوں کے ساتھ ہے، تھر اس لیے آیا کہ پورے ملک میں یہ سب سے پسماندہ علاقہ ہے جو سب سے پیچھے رہ چکا ہے، لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، یہاں پچھلے 3سے 4سال میں 1300 بچے خوراک نہ ملنے سے مرچکے ہیں، اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے۔وزیراعظم نے تھر کے لیے ہیلتھ کارڈ کے اجرا کا اعلان کیا اور کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سارے اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، ہمارے ہیلتھ کارڈ آج سے ایک لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ملیں گے، اس کارڈ سے ہر خاندان 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا علاج کسی بھی سرکاری کا پرائیوٹ اسپتال سے کراسکتا ہے، ہم یہ تمام کارڈ تھر کے لوگوں کو پہنچائیں گے۔عمران خان نے مزید اعلان کیا کہ تھر میں بہت جلد 2 موبائل اسپتال کام شروع کردیں گے، یہ اسپتال دور دراز علاقوں میں پہنچیں گے اور تھر کو 4 ایمبولینسز بھی دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تھر میں کالا سونا کوئلہ پڑا ہوا ہے جو سارے پاکستان کی تقدیر بدل دے گا، ہم نے فیصلہ کیا ہے پسماندہ علاقوں سے جو معدنیات نکلیں گی، ہماری پہلی کوشش ہوگی کہ وہ پیسہ سب سے پہلے مقامی لوگوں پر خرچ ہو کیونکہ ہم نے پسماندہ علاقوں سے زیادتی کی، گیس جہاں سے نکلتی تھی وہاں کے لوگوں کو اس سے سب سے کم فائدہ ہوتا تھا، فیصلہ کیا ہے کہ اب پاکستان کی پالیسیاں مکمل طورپر بدلی جائیں گی، کمزور علاقوں کو اٹھائیں گے اور غریب طبقے کو اوپر لائیں گے۔وزیراعظم نے تھر میں پینے کے پانی کی قلت دور کرنے کے لیے 100 آر او پلانٹ لگانے اور علاقے کو سولرکے ذریعے بجلی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔عمران خان نے کہاکہ تھر میں آدھی آبادی ہندو مذہب کی ہے، جو اس وقت بھارت میں ہورہا ہے جس طرح کی موجودہ بھارتی حکومت کی پالیسی سے وہاں اقلیتوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، میری حکومت مکمل طور پر اپنیہندو مذہب کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے، ہم اپنی اقلیتوں پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہونے دیں گے، آج بھارت کا مسلمان کہتا ہے جو قائداعظم کہہ رہے تھے وہ بالکل ٹھیک تھا، آج وہاں اقلیتوں کو حقوق نہیں مل رہے ،اسی لیے پاکستان بنا تھا، اب ہمارا فرض ہے جو بھی اقلیت ہے وہ برابر کے شہری رہیں گے، ان کے پورے حقوق ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نفرتوں کی سیاست اور انسانوں کو تقسیم کرکے ووٹ لینا آسان سیاست ہے، اسی طرح کراچی میں بھی تباہی کی گئی، ایک آدمی نے اقتدار کے لیے نفرتیں پھیلائیں اور ووٹ لیے، اگر نفرتوں کی سیاست کراچی میں نہ ہوتی تو کراچی دبئی کا مقابلہ کررہا ہوتا، پاکستان میں کوئی پشتونوں کے نام پر سیاست کرتا ہے اور ملک کو بانٹتا ہے، کسی نے بلوچ کا نام لیا لیکن ان سب کا مقصد اقتدار تھا، پنجاب میں جب مشکل پڑی جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگادیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی کی سیاست انسانوں کو تقسیم کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے، جب لیڈر یہ کرتا ہے تو نیچے کارکن وہ کرتے ہیں جو بھارت میں کشمیریوں سے ہورہا ہے، آج بھارت میں الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی گئی۔عمران خان نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور یہ پیغام بار بار پہنچایا، ہم نے پائلٹ واپس کردیا کیونکہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم نے فیصلہ کیا کہ پلوامہ حملے میں بھارت جو بھی مدد چاہتا ہے ہم تیار ہیں لیکن پھر سے کہتا ہوں کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے یہ خوف کی وجہ سے نہیں، ہم تو صرف نیا پاکستان دیکھ رہے ہیں جس میں غربت کم کرنا چاہتے ہیں، ہماری ساری پالیسیاں غربت کم کرنے کے لیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار میں آکر مودی سے بات کی تو انہیں بھی غربت کے لیے کام کرنے اور مذاکرات سے مسئلے حل کرنے کا کہا لیکن کیا پتا تھا کہ جیسے ہی الیکشن مہم شروع ہونا تھی ان کا مقصد ہی نفرتیں پھیلا کر ووٹ لینا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑنے کو تیار ہیں، ہمارا ہیرو ٹیپو سلطان ہے اس لیے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس ملک کو غلام بنالے گا، چاہے وہ بھارت یا کوئی سپر پاور ہو، ان کو بتادینا چاہتا ہوں کہ میں اور میری قوم آخری گیند تک اپنی آزادی کے لیے لڑے گی، ہماری فوج کی پچھلے 10سے 15سال میں ایسی تربیت ہوئی ہے کہ فوج بھی تیار ہے عوام بھی تیار ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستانیوں کا خون کریں گے تو ایسی غلط فہمی میں نہ رہنا ، کچھ بھی کیا تو یہاں سے جوابی کارروائی ہوگی۔ عمران خان نے مزید کہا کہ تمام جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی مسلح گروپ کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن بدقسمتی سے اس پر زیادہ کام نہیں ہوا مگر جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے اس پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا، اس کا مقصد پاکستان کی بہتری ہے، پاکستان کی زمین کو باہر کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کئی عسکری گروپ ختم ہوچکے ہیں لیکن کسی عسکری گروپ کو نہیں چلنے دیں گے، ان گروپوں میں کچھ لوگ ہیں جنہوں نے فلاحی کام کیا لہٰذا انہیں فکر نہیں کرنی چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اندرون سندھ اب تحریک انصاف راج کرے گی میں پڑھے لکھے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں ہمارے ساتھ چلیں انہوں نے کہا پچھلے 10سالوں میں سندھ کے اربوں روپے کاسب کو پتا ہے کہاں گیا ،تھرپارکر کے لوگو!، وفاقی حکومت کے پاس ساڑھے 5ہزار ارب روپے ہیں،2ہزار ارب صوبوں کو چلے جاتے ہیں ،وفاقی حکومت تو 600 ارب خسارے سے شروع ہوتی ہے سب صوبوں کو اور قرضوں کی مد میں چلا جاتا ہے ،ہم اپنا ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے اور رقم سب سے پہلے تھر اور راجن پور جیسے پسماندہ علاقوں پر خرچ کریں گے پھر میٹرو جیسے بڑے منصوبوں کو دیکھیں گے ۔وزیراعظم نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کون نہیں جانتا جب سندھ والوں کو کرپشن پر جیل نظر آتی ہے تو یہاں سندھ کارڈ کھیل دیا جاتا ہے۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ 10سال جو سندھ میں ہوا اس کا حال دیکھیں، ترقیاتی پیسہ کہاں خرچ ہوا سندھ کے لوگ بہتر جانتے ہیں، بدقسمتی یہ ہے کہ سندھ کے لیڈر کو پتا ہی نہیں جدوجہد کیا ہوتی ہے، ایک لیڈر کیسے بنا اپنا نام بدل کر زرداری سے بھٹو بن کر لیڈر بن گیا، اس کو پتا ہی نہیں جدوجہد کیا ہوتی ہے، لیڈر کاغذ کی پرچی سے نہیں بنتے، لیڈر نظریے پر کھڑا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول نے اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کی، یہاں لوگوں کو انگریزی نہیںآتی ہے،جو انگریزی بلاول نے بولی وہ اسمبلی میں بھی لوگوں کو سمجھ نہیں آئی، (ن) لیگ اور جے یو آئی والوں کو تو سمجھ ہی نہیں آئی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلاول نے بار بار طنز کیا عمران خان یوٹرن کرتا ہے، بلاول اگر جدوجہد کرتے تو انہیں پتا چلتا لیڈر اپنے مقصد پر پہنچنے کے لیے جدوجہد میں یوٹرن کرتا ہے یہ لیڈرشپ کا خاص کمال ہے، اگر آپ یوٹرن کا مطلب سمجھتے تو آپ اور والد مشکل وقت سے نہ گزرتے، مشرف نے امریکی دباؤ میں آکر آپ کے والد کو این آر اودیدیا جس کے بعد آپ کو سوئٹرزلینڈ کا 60 ملین ڈالر اور سرے محل کا پیسہ مل گیا، اگر آپ اس وقت کرپشن سے یوٹرن کرجاتے تو آج عدالتوں میں نہ پھر رہے ہوتے، وہ وقت یوٹرن کا تھا، منی لانڈرنگ سے یوٹرن کرجاتے تو آج کبھی نیب کے چکر نہ لگارہے تھے، والد نے آپ کو بھی پھنسا دیا ہے کیونکہ جعلی اکاؤنٹ میں بلاول کا بھی نام آگیا ہے، اس لیے یوٹرن اچھی چیز ہوتی ہے جو مشکلوں سے بچاتی ہے۔چھاچھرو میں عمران خان کے جلسے میں بڑی تعداد میں تھرپارکر ضلع کے مختلف گاؤں گوٹھوں کے علاوہ عمرکوٹ سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے لوگوں کی بڑی تعداد میں قافلوں کی صورت میں شرکت کی ۔
چاچھرو: وزیراعظم عمران خان مستحقین میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کررہے ہیں