جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی ختم کی جائے،سینیٹ کی متفقہ قرارداد

110

اسلام آباد (نمائندہ جسارت)سینیٹ آف پاکستان نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی طرف سے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پرپابندیوں کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کو مسلسل پامال کرنے اور لوگوں کے جمہوری حقوق چھیننے سے روکا جائے اور جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرایا جائے۔قرارد داد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان کا یہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں صدر راج کی آڑ میں آرایس ایس کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پابندیوں، کریک ڈاؤن او ر ان کے دفاتر سیل کیے جانے کی مذمت کرتا ہے۔یہ ایوان اس حقیقت کا برملااظہارکرتاہے کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ،سماجی اور سیاسی سطح پر عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ یہ ایوا ن وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کے خاتمے ،تمام سیاسی قیادت اور کارکنان کی رہائی، ضبط کیے گئے اثاثہ جات کی بحالی کے لیے ہرفورم پر بھرپور آواز اٹھائے ۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جنگ لڑرہی ہے۔ قرارداد پر سینیٹر شبلی فراز،راجاظفر الحق،پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمن ،اے این پی کی سینیٹر ستارہ ایاز اور جے یو آئی کے سینیٹر مولوی فیض الرحمن نے بھی دستخط کیے۔اس طرح سینیٹر سراج الحق کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کو حکمران جماعت سمیت سب پارٹیوں کی حمایت حاصل ہوگئی۔ جمعرات کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا ، چیئر مین سینیٹ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کو خط لکھنے کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کرلیا ، اٹارنی جنرل نے خط میں کمیٹی میں پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگری کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو زیر بحث نہ لانے کا کہا تھا ، زیر بحث لانا توہین عدالت ہوگی ، اپوزیشن نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج معالجے کی سہولت نہ دینے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا ۔ چیئرمین سینیٹ نے پی آئی اے میں یونین پر پابندی کے معاملے کو متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل آرڈیننس 2019 ء ایوان میں پیش ، ہیلتھ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔