ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ،رہائشی اسکیم کے درخواست گزاروں کا ڈیٹا محفوظ نہیں،

196

کراچی (رپو رٹ:منیر عقیل انصاری)ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ www.mda.gos.pk کروڑوں خرچ کرکے بھی ناکارہ، تیسرٹاؤ ن اسکیم 45 کے فارم ڈاؤ ن لوڈ نہیں ہور ہے اگر اتفاق سے دو چار گھنٹوں میں فارم ڈاؤ ن لوڈہو بھی جائے تو سلک بینک کی انتظامیہ فارم جمع کرنے سے انکار رہے ہیں،

بینکوں کے باہر مرد و خواتین کی طویل قطاریں ،کراچی کے شہریوں کے لئے تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کے لئے فارم کا حصول انتہائی مشکل بنادیا گیا، 

تفصیلات کے مطابق ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تیسر ٹاؤن میں رعایتی ہاؤسنگ اسکیم کا فارم بھرنے کے لیے آن لائن پورٹل تو بنایا مگر اس کو لانچ کرنے سے قبل چیک کرنا ہی بھول گئے جس کے باعث پورٹل میں بڑی خرابیاں عوام کے لئے پر یشانی کا باعث بن رہی ہیں ۔ 

جبکہ درخواست گزاروں کے پرسنل کوائف بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یکم مارچ کو سستی رہائشی اسکیم کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی ایم ڈی اے نے فارم کے حصول کے لیے آن لائن فارم کی سہولت بھی فراہم کی تھی تاکہ عوام کو بینک کے باہر قطاروں کی جھنجھٹ سے نجات مل سکے،تاکہ شہری آن لائن پورٹل پر درخواست گزار فارم بھرنے کے بعد اسے پرنٹ کرکے فیس کے ساتھ بینک میں جمع کروا سکتے ہیں۔

پورٹل لانچ ہونے کے پہلے ہی دن سے لوگوں نے اس میں موجود خرابیوں سے متعلق شکایات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے تو فارم پرنٹ نہیں ہوتا، اگر ہو بھی جائے تو اس پر سیریل نمبر نہیں ہوتا، جن فارم پر سیریل نمبر نہیں ہوگا وہ پلاٹ کے حصول کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

اس سے بڑھ کر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب درخواست گزار آن لائن اپنا فارم بھرنے کے بعد اس کو پرنٹ کرتے ہیں تو فارم میں ان کے بجائے کسی اور کے کوائف پرنٹ ہوجاتے ہیں۔

اس تکنیکی خرابی کی تصدیق کے لیے روزنامہ جسارت نے آن لائن فارم بھرنے کے بعد اس کو پرنٹ کیا تو اس میں ان کے نہیں بلکہ اور لوگوں کے کوائف درج تھے۔ یہ فارم جسارت کے پاس بطور ثبوت موجود ہیں۔جسارت نے پرنٹ ہونے والے فارمز پر موجود نمبروں سے رابطے کیے تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آن لائن فارم بھرے تھے۔

اس مسئلے کا سامنا صرف جسارت کے اراکین کو ہی نہیں ہوا بلکہ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس کا اظہار کیا ہے۔اس خبر کے شائع ہونے تک ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یہ خرابی دور نہیں کی ہے۔ اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ جتنے لوگوں نے آن لائن فارم بھرے ہیں، ان سب کا ذاتی ڈیٹا ہر کسی کے لیے با آسانی دستیاب ہے اور کوئی بھی ان لوگوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

ان معلومات میں نام، والد یا شوہر کا نام، شناختی کارڈ نمبر، موبائل فون نمبر، تاریخ پیدائش، ای میل ایڈریس، موجودہ اور مستقل رہائشی پتہ شامل ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ بالکل وہی معلومات ہیں جس کی ہیکرز کو ہر وقت تلاش رہتی ہے۔ وہ یہ ڈیٹا آن لائن مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں جو فراڈ اور جعلسازی میں استعمال ہوتا ہے۔

اس حوالے سے سلک بنک کے باہر موجود شہریوں نے جسارت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈی اے ہاؤسنگ اسکیم پروجیکٹ تیسر ٹاؤن کے فارم ویب سائٹ پر دستیاب ہیں مگر ڈاؤن لوڈ نہیں ہوپارہے ۔ اس لئے ہم سلک بنک سے فارم حا صل کرنے کے لئے صبح سے مو جود ہیں،لیکن فارم کاحصول انتہا ئی مشکل ہے ،
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر غریب اور کم آمدنی والے گھرانوں کو سستے پلاٹ کی فراہمی کے لئے سنجیدہ ہے تو ان سستی ہاؤسنگ اسکیم پروجیکٹ کی زمینوں کو بلڈرز اور قبضہ مافیا کا شکار ہونے سے بچایا جائے ،

اس حوالے سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سیکر یٹری ارشد خان نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اب تک 8ہزار سے زائد درخواست فارم جمع کرائے ہیں جبکہ 40ہزار سے زائد آن لائن پورٹل کے زریعے شہریوں نے فارم ڈاؤ ن لوڈ کیے ہیں۔ 

عوام کا ٹر یفک زیادہ ہو نے کی وجہ سے عارضی تعطل پیدا ہو اتھا جودور کر دیا گیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ عوام ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ہیڈآفس سے شناختی کارڈ کے زریعے باآسانی فارم حا صل کر سکتے ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی اسٹیٹ ایجنٹ یا بروکر سے ایم ڈی اے کا کوئی تعلق نہیں ہیں ،درخواست فارم کی قیمت وصول کرنے والوں کی اطلاع پولیس یاایم ڈی اے کے دفاتر پر دی جا سکتی ہے۔

جعلی ایم ڈی اے کے فارم بیچنے والوں کے بارے میں اطلاع 99244761 یا99244763پر دی جا سکتی ہے۔

جعلی فارم کی فروخت میں ملوث افراد کی اطلاع پولیس کے 15نمبرپربھی دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کی سستی رہا ئشی اسکیم کے حوالے سے شوشل میڈیاپر غلط پر وپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم میں درخواست جمع کر ائی ہیں۔